Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
176 - 975
حدیث نمبر 176
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کے تہبند اس کے آدھی پنڈلیوں تک ہوں ۱؎ اس پر پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں گناہ نہیں ۲؎  جو اس سے زیادہ نیچا ہوگا وہ آگ میں ہوگا ۳؎ یہ تین بار فرمایا اور اللہ تعالٰی اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے گا جو اپنا تہبند فخرًا زیادہ نیچا رکھے (گھسیٹے)۴؎ (ابودا ؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎  ازرہ الف کے کسرہ سے ز کے جزم سے یعنی تہبند باندھنے کی حالت و ہیئت جیسے جلسہ بیٹھنے کی ہیئت و کیفیت۔(اشعہ و مرقات)یعنی مسلمانوں کے ازاروتہبند باندھنے کی کیفیت یہ چاہیے کہ وہ نصف پنڈلی تک رہے،نصف سے مراد تقریبًا آدھا ہے نہ کہ حقیقی آدھا لہذا کچھ اونچے نیچے ہونے میں حرج نہیں،یہ حد مردوں کے لیے ہے۔عورتوں کے تہبند یا پاجامے ٹخنوں کے نیچے تک ہونے چاہئیں کیونکہ ان کی پنڈلی ستر میں داخل ہے جس کا چھپانا فرض ہے۔عورتیں گھر میں رہتی ہیں گندی گلیوں سڑکوں میں انہیں چلنا پھرنا نہیں پڑتا ان کے لیے پاجامہ نیچا ہونا مضر نہیں،مردوں کو باہر چلنا پھرنا پڑتا ہے  ان کے نیچے پانچے نجس ہوجائیں گے اس لیے بھی یہ فرق کیا گیا۔

۲؎  یعنی مرد ٹخنوں تک پائجامہ اور تہبند رکھ سکتے ہیں اس طرح کہ ٹخنے کھلے ہوں۔

۳؎  اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اس حد سے نیچا تہبند مع پا ؤں کے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جب پا ؤں دوزخ میں گیا تو پا ؤں والا بھی وہاں ہی گیا۔وجہ ظاہر ہے کہ یہ عمل متکبرین اور فیشن ا یبل لوگوں کا ہے،نیز ایسے تہبند اکثر نجس رہتے ہیں،راستہ کی گندگی ان کے نچلے کنارہ میں لگ جاتی ہے جس سے نماز درست نہیں ہوتی،اکثر ایسے تہبند میں الجھ کر گر جاتے ہیں خصوصًا زینہ پر چڑھتے اترتے۔

۴؎  فخر کی قید سے معلوم ہوا کہ یہ سزائیں اس صورت میں ہیں جب کہ فیشن یا تکبر کے طور پر ہو،اگر کوئی شخص بے خیالی میں ایساکر بیٹھے تو یہ حکم نہیں،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تہبند شریف کبھی بے خیالی میں نیچا ہوجاتا تھا۔
Flag Counter