| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قمیض کی آستینیں کلائی تک تھیں ۱؎ (ترمذی،ابودا ؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ لہذا سنت یہ ہی ہے کہ قمیض کی آستینیں نہ تو کلائی سے اوپر ہوں نہ نیچے یعنی ہتھیلی یا انگلیوں تک۔جن روایات میں ہے کہ حضور انور کی آستینیں انگلیوں تک ہوتی تھیں وہاں جبہ کی آستینیں مراد ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔جبہ کی آستینیں دراز ہوتی تھیں قمیض کی آستینیں چھوٹی،آج کل قمیض کی آستینیں آدھی کلائی تک بعض لوگ رکھتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔شلوکے یا واسکٹ کی آستینیں بازو تک ہوتی ہیں یا بالکل نہیں ہوتیں یہ بھی جائز ہے۔