۱؎ ثیاب جمع ہے ثوب کی، پہننے کے کپڑے کو ثوب کہا جاتا ہے خواہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا لہذا بے سلا تہبند بھی ثوب ہے اور سلا ہوا پائجامہ کرتا بھی ثوب۔
۲؎ قمیض سے مراد سوتی قمیض ہے حریر ریشم تو مرد کو حرام ہے اور حضور انور نے کبھی اونی قمیض نہیں پہنی کہ یہ بدن میں چبھتی ہے اور پسینہ میں بو دیتی ہے۔قمیض کے پسند ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ بدن سے چمٹی رہتی ہے بدن سے سرکتی نہیں،نماز میں اسے باربار چڑھانا نہیں پڑتاجیساکہ چادر اوڑھنے کی حالت میں ہوتاہے۔حضور کی قمیض میں گریبان نہ ہوتا تھا بلکہ دو طرفہ کندھوں پر چاک کھلے ہوتے تھے جیسے کہ احادیث میں وارد ہے۔