۱؎ یعنی چونکہ اس کا رنگ پکا ہے اور اس میں خوشبو بھی ہے اس لیے دھونے سے نہ رنگ اترے گانہ بو جائے گی،نیز اگر رنگ و بو جاتی رہی تو اس میں مال ضائع کرنا ہے کہ رنگ قیمتی چیز ہے اسے دھوکر کیوں پھینکو لہذا اسے آگ میں ڈالو یعنی اپنے سے الگ کردو عورتوں کو دے دو وہ پہن لیں گی۔جلانے کا مطلب یہ ہی ہے جیسے اردو میں کہاجاتا ہے بھاڑ میں پھینکو۔چنانچہ حضرت یہ مقصد سمجھے نہیں،گھر آئے تنور جل رہا تھا یہ کپڑا اس میں ڈال دیا دوسرے دن حاضر ہوئے حضور نے پوچھا عبداللہ تم نے اس کپڑے کا کیا کیا عرض کیا تنور میں جلادیا،فرمایا اپنے گھر کی کسی عورت کو دے دیا ہوتا وہ پہن لیتی،عورتوں کے لیے سرخ لباس حلال ہے۔(مرقات)امام اعظم کے ہاں خالص سرخ کپڑا مرد کے لیے بہرحال مکروہ ہے خواہ سرخ سوت سے بنایا گیا ہو یا بننے کے بعد رنگا گیا ہو،یوں ہی زعفرانی رنگ کا پیلا کپڑا مرد کو مکروہ ہے۔(مرقات)اس حدیث کی اور بھی شرحیں کی گئی ہیں مگر یہ شرح بہت قوی ہے۔
۲؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں ہی تھی چونکہ اس میں حضرات حسنین کریمین کے فضائل کا ذکر ہے کہ حضور انور نے ان دونوں کو اپنے مخطط کمبل میں لے لیا اس لیے ہم اسے مناقب اہل بیت میں ذکرکریں گے۔