| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ریشمی جوڑا ہدیۃً پیش کیا گیا ۱؎ آپ نے وہ مجھے بھیج دیا ۲؎ میں نے اسے پہن لیا پھر میں نے آپ کے چہرہ انور میں ناراضی معلوم کی۳؎ پھر فرمایا کہ میں نے تمہیں اس لیے نہ بھیجا تھا کہ تم خود پہن لو تو میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم عورتوں کو اس کے دوپٹے پھاڑ دو ۴؎(مسلم، بخاری)
شرح
۱؎ بعض شارحین نے فرمایا سیرا وہ کپڑا ہے جو ریشم و سوت سے مخلوط کرکے بُنا جاوے مگر حق یہ ہے کہ سیرا خالص ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔(مرقات و اشعہ)حلہ چادر و تہبند کے مجموعہ کو کہتے ہیں یعنی جوڑا،یہ پتہ نہ لگا کہ ہدیہ کرنے والا کون تھا غالبًا کوئی کافر بادشاہ ہوگا،حضور انور نے یہ ہدیہ قبول فرمایا حضور نے کفار بادشاہوں کے ہدیے قبول بھی کیے انہیں بدلے عطا بھی کیے۔ ۲؎ یعنی وہ ریشمی جوڑا حضور انور نے مجھے ہدیہ فرمادیا۔معلوم ہوا کہ جو چیز مرد کے لیے حرام عورتوں کے لیے حلال ہے وہ مرد کو ہدیہ کی جا سکتی ہے،اسے مرد سے خرید و فروخت کیا جاسکتا ہے،جس کا استعمال کسی مسلمان کے لیے کسی طرح حلال نہ ہو اس کا ہدیہ لینا دینا اس کی تجارت مسلماں کے لیے حرام ہے جیسے شراب اور سؤر لہذا مسلمان افیون،بھنگ کی خرید و فروخت کرسکتا ہے شراب کی نہیں کرسکتا کہ افیون و بھنگ کا دواؤں لیپ میں استعمال حلال ہے،شراب کا استعمال مطلقًا حرام۔ ۳؎ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اگر میرے لیے یہ حرام ہوتا تو آپ مجھے کیوں عطا فرماتے اس لیے پہن لیا اگر غور فرماتے تو معلوم کرلیتے کہ یہ مجھے پہننے کے لیے عطا نہیں ہوا بلکہ عورتوں کو پہنانے کے لیے عطا ہوا ہے،اس غور نہ کرنے پر حضور انور نے ناراضگی فرمائی۔ ۴؎ بعض روایات میں بجائے نساء کے فواطم آیا ہے تب ان سے مراد حضرت فاطمہ بتول زہرا یعنی زوجہ علی مرتضٰی اور فاطمہ بنت اسد ابن ہاشم یعنی حضرت علی جعفر و عقیل طالب کی والدہ ماجدہ اور ابو طالب کی زوجہ مطہرہ جنہیں حضورنے فرمایا امی بعد امی میری ماں کے بعد ماں اور فاطمہ بنت حمزہ اسد ابن ہاشم یعنی ام اسماء۔خیال رہے کہ فاطمہ بن اسد نے ہی حضور انور کی پرورش کی،انہی کی قبر انور میں حضور کچھ دیر لیٹے،اسلام میں ہاشم ہی سب سے پہلے انہی کے ہاں فرزند پیدا ہوئے،حضور انور نے حضرت علی کے گھر پرورش پائی،پھر حضرت علی نے حضور کے ہاں پرورش پائی رضی اللہ عنہ۔(ازمرقات و اشعہ)یعنی تم نے ان چند فاطماؤں میں یہ کپڑا تقسیم کردیا ہوتا وہ دوپٹے بنالیتیں۔