۱؎ یہ واقعہ ہجرت کے دن کا ہے۔حضور صلی ا للہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو خبر دے دی تھی کہ مجھے عنقریب ہجرت کا حکم ملنے والا ہے تم مکہ معظمہ میں رہو تم ہجرت میں ہمارے ساتھ ہو گے،حضرت صدیق اکبر منتظر رہے آج ہجرت کا حکم ملنے پر دوپہر کے وقت حضور حضرت صدیق اکبر کے گھر تشریف لائے اس طرح کہ چادر شریف اوڑھے ہوئے تھے اور چادر کا ایک حصہ گھونگھٹ کی طرح چہرہ پر تھا جس پر چہرہ صاف نظر نہ آتا تھا یا تو گرمی کی وجہ سے یہ عمل تھا یا تاکہ کوئی حضور کو دیکھ نہ سکے یہ ساری چیزیں صیغہ راز میں رکھنی تھیں،بعض صوفیاء خصوصًا حضرات نقشبندیہ چادر کا گھونگھٹ مارتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے۔بعض لوگوں نے اس کو ناجائز کہا ہے،بعض نے بلا ضرورت ناجائز کہا مگر حق یہ ہے کہ مطلقًا جائز ہے چنانچہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اسکے متعلق ایک رسالہ لکھا "طی اللسان عن ذم الصیلسان" جس میں بہت احادیث اس عمل کی جمع فرمائیں۔دوسرے موقعوں پر بھی حضور صلی ا للہ علیہ و سلم سے یہ عمل ثابت ہے،حضرت صحابہ کرام تابعین عظام سے بھی ثابت ہے۔حضور غوث الثقلین قطب الکونین سید شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ عمل ثابت ہے۔(اشعۃ اللمعات)