۱؎ اہلِ عرب فخریہ طور پر بہت سے بستر بناتے اور ان سے گھر سجاتے تھے جیسے پنجاب کے اہلِ دیہات بہت زیادہ برتنوں سے گھر سجاتے اس پر فخر کرتے ہیں۔اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ صرف تین قسم کے بستر رکھو: اپنے لیے،بیوی بچوں کے لیے اور بقدر ضرورت مہمانوں کے لیے،یہاں بستر کی قسمیں مراد ہیں نہ کہ تعداد لہذا جس کے دو چار بچے ہوں،دو چار مہمان روزانہ آتے جاتے ہوں تو وہ انہیں کے مطابق بستر رکھے۔
۲؎ چوتھے سے مراد چوتھی قسم کا بستر ہے یعنی بلا ضرورت محض فخر اور اپنی بڑائی کے اظہار کے لیے رکھا جائے خواہ ایک ہو یا زیادہ،چونکہ اس قسم کا بستر تکبر و شیخی کے لیے ہوتا ہے اس کا محرک شیطان ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کی طرف نسبت دی گئی ہے۔بعض شارحین نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ مرد کو اپنی بیوی سے علیٰحدہ سونا چاہیے ساتھ سونا ممنوع ہے کیونکہ حضور صلی ا للہ علیہ و سلم نے مرد کا بستر بیوی سے علیٰحدہ فرمایا مگر یہ ضعیف ہے،بعض حالات بیماری وغیرہ میں علیٰحدہ سونا پڑتا ہے اس لیے علیٰحدہ بستر کی اجازت دی گئی۔خاوند بیوی کا ایک بستر پر سونا حدیث سے ثابت ہے،اس کے متعلق بہت احادیث ہیں۔(مرقات)