| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وہ بستر جس پر آپ سوتے تھے چمڑہ کا تھا جس کا بھراؤ کھجور کا لیف تھا ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بعض لوگوں نے لیف کے معنی کیے ہیں کھجور کی چھال،یہ غلط ہے چھال بہت سخت ہوتی ہے۔لیف کھجور کے درخت کا گودا جو نرم ہوتا ہے،عرب شریف میں کم چوڑے بہت لمبے گدیلے تکیہ نما ہوتے ہیں ان پر سویا جاتا ہے یہاں وہی مراد ہے یعنی حضور کے سونے کا بستر ایسے گدیلے تھے سردی میں یہ بستر تھا اور گرمیوں میں ٹاٹ لہذا یہ حدیث ٹاٹ والی حدیث کے خلاف نہیں۔