۱؎ بعض حضرات ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حضور کے تبرکات کی زیارت کرنے آیا کرتے تھے اور آپ انہیں زیارت کراتی تھیں۔ملبد کے معنی ہیں لبادہ کیا ہوا یعنی پیوند پر پیوند لگتے لگتے نمدہ کے لباس کی طرح موٹا ہوچکا تھا۔
۲؎ یہ اس دعا کا اثر ہے اللھم احینی مسکینا وامتنی مسکینا کہ میری زندگی و موت مسکین ہوکر ہو۔شعر
بوریا ممنوں خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش
ہم جیسے کمینے غلام ان کے نام پر عیش کررہے ہیں اور وہ خود اس حالت میں دنیا سے پردہ فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ و سلم۔خیال رہے کہ حضور صلی ا للہ علیہ و سلم نے اعلیٰ و عمدہ لباس بھی پہنے ہیں مگر ان کی عادت نہ ڈالی،ہر قسم کا لباس بے تکلف پہن لیتے تھے،آخر وقت یہ لباس جسم اطہر پر تھا لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ سہری اثر نعمۃ ربك علیك۔