۱؎ بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے شامی جبہ پہنا،چونکہ اس زمانہ میں شام روم کا ماتحت تھا اس لیے ملک شام کو بھی روم کہہ دیا جاتا تھا یا مطلب ہے کہ بنا ہوا روم کا تھا سلا ہوا شام کا بہرحال احادیث میں تعارض نہیں۔یہ کپڑا اونی ہوتا تھا موٹا بنا ہوا بہت سادہ۔حضرات صوفیاء کرام بھی اکثر صوف یعنی اونی کپڑے پہنتے ہیں اس لیے انہیں صوفی کہا جاتا ہے یعنی صوف پہننے والے حضرت آدم و حوا نے زمین پر آکر پہلے اونی کپڑا پہنا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر صوف پہنتے اور درختوں کے پھل وغیرہ کھاتے تھے،جہاں شام آجاتی سو رہتے تھے۔خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ میں نے ستر بدری صحابہ سے ملاقات کی سب کا لباس صوف یعنی اون کا تھا،فقہاء فرماتے ہیں کہ سفر میں تنگ آستین کی قمیض افضل ہے اور گھر کھلی آستین کی قمیض بہتر ہے۔صحابہ کرام کی آستین ایک بالشت چوڑی ہوتی تھیں۔(مرقات)