Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
151 - 975
کتاب اللباس

لباس کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  لباس بمعنی پہننا مصدر ہے باب سمع یسمع سے،اس سے مراد ہے پہنی ہوئی چیز یعنی مصدر بمعنی اسم مفعول۔اس میں کپڑے،جوتے،زیور وغیرہ سب کا بیان آئے گا کہ وہ سب چیزیں پہنی جاتی ہیں۔لباس بمعنی التباس بھی آتاہے مشتبہ ہوجانا متشابہ لگ جانا وہ بھی مصدر ہے مگر ضرب یضرب سے پہلے لباس کا مادہ لبس لام کے پیش سے ہے دوسرے لباس کا مادہ لبس لام کے فتحہ سے یہ فرق ضرور خیال رہے یہاں،پہلا لباس ہے بمعنی پہننا۔(اشعہ)
حدیث نمبر 151
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ محبوب ترین لباس جن کا پہننا نبی صلی ا للہ علیہ و سلم کو پسند تھا حبرہ تھے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یمن کے تیارکردہ کپڑوں میں سے ایک قسم کے سوتی کپڑے کا نام حیرہ ہے ح کے کسرہ سے،یہ بہترین قسم کا کپڑا ہوتاہے،سادہ سفیدبھی ہوتا ہے اور سبزوسرخ دہاری والا بھی۔حیر کے معنی ہیں سجاوٹ آراستگی،یہ کپڑا بڑا اچھا ہوتا ہےجس سے دولہنوں کو آراستہ کیا جاتا تھا اس لیے اسے حیرہ کہتے ہیں،قرآن کریم میں ہے"فَہُمْ فِیۡ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوۡنَ"۔یہ کپڑا میل خوردہ ہوتاہے،میل کو چھپا لیتا ہے جلد جلد دھونا نہیں پڑتا اس لیے محبوب تھا۔(مرقات و اشعہ)
Flag Counter