Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
150 - 975
حدیث نمبر 150
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ فرماتے ہیں ایک چوہیا بتی کھینچتی ہوئی آئی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آگے ڈال دیا اس چٹائی پر جس پر حضور بیٹھے تھے ۱؎  اس سے درہم برابر حصہ جلادیا۲؎  تب حضور نے فرمایا کہ جب تم سونے لگو تو اپنے چراغ بجھادو کیونکہ شیطان ان جیسی چیزوں کی اس کام پر رہبری کرتا ہے پھر تمہیں جلادیتاہے ۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ خمرہ بنا ہے خمر سے  بمعنی ڈھکنا اور چھپانا،اس سے ہے خمار بمعنی ڈوپٹہ،خمر بمعنی شراب کہ دوپٹہ سر کو اور شراب عقل کو چھپالیتی ہے۔یہاں خمرہ سے مراد چھوٹا مصلے چٹائی کا جس پر ہر ایک آدمی نماز پڑھ سکے، چونکہ وہ مصلے زمین کو چھپالیتا ہے اس لیے اسے خمرہ کہتے ہیں۔حضور انور رات کے وقت اس مصلے پر جلوہ گر تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔

۲؎  مصلے میں آگ لگتے ہی بجھادی گئی ہوگی صرف اتنی ہی جگہ جل پائی ہوگی ورنہ سارا مصلے جل جاتا۔

۳؎  یعنی ابھی توہم جاگ رہے تھے آگ بجھالی  اگر سوتے ہوتے تو مصلیٰ بلکہ سارا گھر جل جاتا اس لیے سوتے وقت چراغ بجھادیا کرو۔
Flag Counter