Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
146 - 975
حدیث نمبر 146
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ایک انصاری صاحب ابوحمید نقیع سے دودھ بھرا برتن نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں لائے ۱؎  نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا اگرچہ اس پر لکڑی کھڑی کر دیتے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  ابو حمید کا نام عبدالرحمن ابن سعد ہے،کنیت ابو حمید خزرجی ساعدی ہیں،نقیع وادی عقیق میں ایک جگہ ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے طویلہ بنوایا تھا وہاں حضور کے خدام بھی رہتے تھے ان اونٹوں کی نگرانی کے لیے۔بعض نسخوں میں بجائے نقیع کے بقیع ہے یعنی ب سے جو مدینہ منورہ کا قبرستان ہے مگر یہ صحیح نہیں وادی عقیق مدینہ منورہ کے مکہ معظمہ کے قدیمی راہ پر تین میل فاصلہ پر ایک وادی ہے اب راستہ بدل چکا ہے۔

۲؎  وہ حضرت کھلے برتن میں دودھ لائے تھے اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمایا یعنی دودھ ڈھک کر لانا چاہیے تھا اگر ڈھکنا نہ تھا تو اس کے اوپر لکڑی ہی کھڑی کرلیتے۔ہمارے ہاں عوام میں مشہور ہے کہ دودھ اور دہی کو نظر بد بہت جلد لگتی ہے اس پر لکڑی کھڑی کرلینی چاہیے۔اس کی اصل یہ حدیث ہوسکتی ہے کہ خیال رہے کہ دوکانوں پر دودھ دہی کھلا رکھا رہتا ہے وہ اس حکم میں داخل نہیں،کہیں لے کر جاؤ تو ڈھک لو۔
Flag Counter