۱؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا ہر رات شیاطین کا پھیلاوا اول شب میں ہوتا ہے اور سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں خصوصی بلائیں نازل ہوتی ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ان احادیث میں یہ عمومی بلاؤں کا ذکر تھا جو روزانہ شروع رات میں آتی ہیں اور اس حدیث میں خاص ان بلاؤں کا ذکر ہے جو سال میں ایک رات آتی ہے۔
۲؎ من بیانیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ لہذا اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بلا ان برتنوں میں داخل ہوجاتی ہے جن پر ڈھکنا نہ ہو۔نووی نے فرمایا کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر آفت سے بچاؤ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے مسلمان ہر وقت ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے،دنیا زہر ہے ذکر اللہ اس کا تریاق۔(مرقات)تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی،اللہ کے ذکر سے تر زبان ان شاء اللہ دوزخ اور آفات کی آگ سے نہ جلے گی۔مؤمن سوتے جاگتے،جیتے،مرتے اللہ کا ذکر کرے ۔