Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
145 - 975
حدیث نمبر 145
اور اس کی ایک روایت میں یوں ہے فرمایا کہ برتن ڈھک دو اور مشکیزے باندھ دو کیونکہ سال میں ایک رات ہے جس میں وبائیں اترتی ہیں ۱؎  نہیں گزرتیں کسی ایسے برتن پر جس پر ڈھکنا نہ ہو مگر اس وباء میں سے اس میں اتر جاتی ہے ۲؎
شرح
۱؎ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا ہر رات شیاطین کا پھیلاوا اول شب میں ہوتا ہے اور سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں خصوصی بلائیں نازل ہوتی ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ان احادیث میں یہ عمومی بلاؤں کا ذکر تھا جو روزانہ شروع رات میں آتی ہیں اور اس حدیث میں خاص ان بلاؤں کا ذکر ہے جو سال میں ایک رات آتی ہے۔

۲؎  من بیانیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ لہذا اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بلا ان برتنوں میں داخل ہوجاتی ہے جن پر ڈھکنا نہ ہو۔نووی نے فرمایا کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر آفت سے بچاؤ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے مسلمان ہر وقت ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے،دنیا زہر ہے ذکر اللہ اس کا تریاق۔(مرقات)تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی،اللہ کے ذکر سے تر زبان ان شاء اللہ دوزخ اور آفات کی آگ سے نہ جلے گی۔مؤمن سوتے جاگتے،جیتے،مرتے اللہ کا ذکر کرے ۔
Flag Counter