۱؎ فواشی جمع ہے فاشیۃ کی،عربی میں چھوٹے ہوئے جانور کو فاشیہ کہتے ہیں خواہ جنگل میں چھوٹا ہوا ہو یا بستی میں کھلا پھرتا ہو پھر مطلقًا جانوروں کو فواشی کہا جانے لگا وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی مغرب و عشاء کے درمیان اپنے جانور اور بچے کھلے نہ پھرنے دو۔
۲؎ یعنی رات کے شروع حصہ کی سیاہی ختم ہوجاوے اور اس کی اصلی سیاہی آجاوے،مغرب عشاء کے درمیان آسمان پر سیاہی ہوتی ہے مگر مغربی کنارہ پر سرخی یا سفیدی ہوتی ہے۔یہاں فحمہ سے یہ ہی سیاہی مراد ہے اور جب عشاء کا وقت آتا ہے تو یہ خالص سیاہی ہر طرف چھا جاتی ہے کسی جگہ سرخی یا سفیدی کا نام نہیں ہوتا لہذا حدیث واضح ہے۔