Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
144 - 975
حدیث نمبر 144
اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ اپنے جانور اور بچے نہ چھوڑو ۱؎  جب کہ سورج ڈوب جائے حتی کہ رات کی سیاہی جاتی رہے ۲؎ کیونکہ جب سورج ڈوب جاتا ہے تو شیاطین چھوڑ دیئے جاتے ہیں حتی کہ رات کی یہ سیاہی جاتی رہے۔
شرح
۱؎  فواشی جمع ہے فاشیۃ کی،عربی میں چھوٹے ہوئے جانور کو فاشیہ کہتے ہیں خواہ جنگل میں چھوٹا ہوا ہو یا بستی میں کھلا پھرتا ہو پھر مطلقًا جانوروں کو فواشی کہا جانے لگا وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی مغرب و عشاء کے درمیان اپنے جانور اور بچے کھلے نہ پھرنے دو۔

۲؎  یعنی رات کے شروع حصہ کی سیاہی ختم ہوجاوے اور اس کی اصلی سیاہی آجاوے،مغرب عشاء کے درمیان آسمان پر سیاہی ہوتی ہے مگر مغربی کنارہ پر سرخی یا سفیدی ہوتی ہے۔یہاں فحمہ سے یہ ہی سیاہی مراد ہے اور جب عشاء کا وقت آتا ہے تو یہ خالص سیاہی ہر طرف چھا جاتی ہے کسی جگہ سرخی یا سفیدی کا نام نہیں ہوتا لہذا حدیث واضح ہے۔
Flag Counter