Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
143 - 975
۱؎ یہاں چھین جھپٹ سے مراد ان کو دیوانہ کردینا ان پر مسلط ہوجانا ہے۔ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن پر جن آجاتے ہیں ان کو پریشان کرتے ہیں دیوانہ بنادیتے ہیں۔جنات کا یہ تصرف قرآن کریم سے ثابت ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"۔جیسے سانپ بچھو وغیرہ زہریلے جانور انسان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں  ایسے ہی شیطان بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں ،یہ اثرات بھی بالکل حق ہیں۔

۲؎  یہاں فویسقہ سے مراد موذی جانور ہے جو اپنے نفع کے بغیر انسان کا نقصان کردے۔چوہا،چیل،کوّا،بچھو، دیوانہ کتا سب فویسق یعنی موذی ہیں اس لیے ان کو حرم شریف میں بھی اور حالت احرام بھی قتل کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر 143
اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا برتن ڈھک دو اور مشکیزے باندھ دو ۱؎  دروازے بند کردو اور چراغ بجھادو ۲؎  کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھولتا اور نہ دروازہ کھولتا ہے نہ برتن کھولتا ہے۳؎  پھر اگر تم میں سے کوئی نہ پائے مگر یہ کہ اپنے برتن پر لکڑی کھڑی کردے اور اللہ کا نام لے آوے تو یہ ہی کرے۴؎ کیونکہ چوہیا گھر والوں پر ان کا گھر بھڑکا دیتی ہے ۵؎
شرح
۱؎  یہاں بھی برتنوں سے مراد وہ برتن ہیں جن میں کھانے پینے کی چیزیں ہوں،یوں ہی مشکیزے سے مراد وہ مشکیزے ہیں جن میں پانی یا نبیذ وغیرہ ہوں۔

۲؎  یہاں بھی چراغ سے مراد کھلا چراغ ہے جس کی بتی چوہا کھینچ سکے،موجودہ بجلی کی روشنی اس حکم سے خارج ہے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔

۳؎  یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے ان شیاطین کو یہ قدرت نہیں دی کہ ان چیزوں کو کھول سکیں جیسے شیطان اس کھانے کو نہیں کھاسکتا جو بسم اللہ پڑھ کر کھایا جائے لہذا حدیث شریف بالکل ظاہر معنی پر ہے اس میں کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں۔

۴؎ یعنی اگر برتن ڈھکنے کے لیے کوئی ڈھکنا نہ ملے تو اس پر اللہ کا نام لے کر لکڑی کھڑی کردو وہ برتن اس لکڑی اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے ان بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔

۵؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا مستحب ہے واجب نہیں،اس میں بہت ہی منافع اور فوائد ہیں۔
Flag Counter