| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے منع فرمایا ۱؎ اور اس سے کہ پانی میں پھونکا جائے ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ خواہ پیالہ کا کنارہ کچھ ٹوٹا ہوا ہو یا پیالہ کے وسط میں سوراخ ہو اس سے پانی وغیرہ مطلقًا منع ہے کہ یہ جگہ منہ سے اچھی طرح نہیں لگتی جس سے پانی وغیرہ بہ کر کپڑوں پر گرتا ہے کچھ منہ میں جاتا ہے کچھ کپڑے تر کرتا ہے،نیز یہ جگہ پھر اچھی طرح صاف بھی نہ ہوسکے گی اور ممکن ہے کہ ٹوٹا ہوا کنارہ ہونٹ کو زخمی کر دے اور زخم کا خون پانی اور برتن کو ناپاک کردے بہرحال اس حکم میں بھی بہت حکمتیں ہیں۔ ۲؎ اس حدیث کو احمد اور حاکم نے بھی انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔(دیکھو مرقات)