Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
129 - 975
حدیث نمبر 129
روایت ہے حضرت کبشہ سے ۱؎  فرماتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے کھڑے پانی پیا ۲؎ میں اس کے دہانے کی طرف اٹھی اسے میں نے کاٹ لیا ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
شرح
۱؎  کشبہ دو ہیں: ایک کبشہ بنت ثابت ابن منذر انصاریہ ہیں جو حضرت حسان ابن ثابت کی بہن ہیں انہیں کبیشہ بھی کہا جاتا ہے،ان کا لقب برضاء ہے۔دوسری کبشہ بنت کعب ابن مالک انصاریہ یعنی عبداللہ ابن قتادہ کی بیوی،نہ معلوم یہ کون سی کبشہ ہیں۔بعض محدثین نے فرمایا پہلی کبشہ ہیں،بعض نے فرمایا دوسری،چونکہ دونوں کبشہ صحابیہ ہیں اس لیے یہ ناواقفیت مضر نہیں کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں۔(مرقات)

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ مشکیزے سے منہ لگا کر پینا اور کھڑے کھڑے پینا دونوں جائز ہیں۔جہاں ممانعت آئی وہاں ممانعت تنزیہی یا خلاف اولیٰ مراد ہے۔

۳؎  یعنی مشکیزے کے منہ کا چمڑا جسے حضور انور کے لب لگے تھے میں نے کاٹ کر رکھ لیا کیوں،اس کی تین وجہ ہیں: ایک شفاء کے لیے کہ مدینہ کے بیماروں کو اس چمڑہ کو ڈبوکر پانی پلایا کروں،تبرک کے لیے کہ اپنے پاس برکت کے لیے رکھوں اور اس لیے کہ کسی اور کا منہ اسے نہ لگے کہ یہ بے ادبی ہے اسے حضور کا منہ شریف لگا ہے۔(مرقات)ترمذی نے حضرت ام سلیم کایہ ہی واقعہ نقل فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ جس چیز کو مقبول بندوں کا منہ لگ جائے وہ شفاء بن جاتی ہے۔یوسف علیہ السلام کی قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھ کی شفا بن گئی۔(دیکھو قرآن مجید)یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگوں کے جسم شریف سے لگی ہوئی چیز سے برکت لینا جائز ہے وہ متبرک ہے۔
Flag Counter