۱؎ اس ممانعت کی حکمتیں ابھی عرض کی گئیں۔پھونک مارنا پانی میں ہو یا دودھ میں یا کسی اور پینے کی چیز میں،پھر خواہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہو یا تنکا وغیرہ دور کرنے کے لیے اور خواہ پانی میں پھونک مارے یا کھانے میں سب ممنوع ہے۔چنانچہ طبرانی کی روایت میں ہے عن النفخ فی الطعام والشراب۔
۲؎ یعنی اگر برتن میں کوڑا تنکا نظر آئے تو میں کیا کروں وہ تو پھونک سے ہی دفع ہوسکتا ہے اور آپ حضور پھونک سے منع فرماتے ہیں۔
۳؎ اس طرح کہ برتن سے تھوڑا پانی گرادو جس سے وہ کوڑا بھی گر جائے یا چمچہ یا کسی تنکے سے الگ کردو بہرحال پھونک نہ مارو۔
۴؎ سائل کا مقصد یہ ہے کہ آپ برتن میں پھونک مارنے سے منع فرماتے ہیں اور میں ایک سانس میں پانی وغیرہ سے سیر نہیں ہوتا دوسری تیسری سانس ضرور لینا پڑتی ہے وہ سانس برتن ہی میں لی جاوے گی تو پھر پھونکنا ہوگیا۔
۵؎ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ چند سانسوں میں ہو مگر سانس برتن میں نہ لو برتن منہ سے ہٹا کرلو۔خیال رہے کہ تین سانس سے پینا بہتر ہے ایک سانس سے پینا جائز۔(مرقات)حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی ایک سانس سے نہ پیا۔