۱؎ اس ممانعت میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ممکن ہے کہ مشکیزے میں کوئی زہریلا کیڑا ہو جو اس طرح پینے سے منہ کے ذریعہ پیٹ میں چلا جائے،ممکن ہے کہ مشکیزہ کا منہ چوڑا ہو پانی زیادہ گرے کپڑے بھیگ جاویں،نیز پھر مشکیزہ کا پانی استنجے کے قابل نہ رہے کیونکہ پس خوردہ پانی سے استنجا کرنا منع ہے۔جن روایات میں ہے کہ حضور اقدس نے مشکیزے کے منہ سے پانی پیا وہاں مشکیزہ چھوٹا تھا اور اس کا منہ بہت چوڑا نہ تھا اور خبر تھی کہ پانی صاف ہے لہذا یہ حدیث اس سے متعارض نہیں یا وہ حدیث بیان جواز کے لیے ہے اوریہ حدیث بیان استحباب کے لیے۔مرقات میں اس جگہ ہے کہ ایک شخص نے بطورِ آزمائش مشکیزے کے منہ سے پانی پیا تو اس کے منہ میں سانپ چلا گیا یا مقصد یہ ہے کہ اس طرح ہمیشہ پینا ممنوع ہےکبھی اتفاقًا پی لیناجائزہے۔(اشعہ)