۱؎ اشربہ جمع ہے شراب کی جیسے طعام کی جمع ہے اطعمہ،شراب یا بنا ہے شرب سے بمعنی پینا یا شربۃ سے یعنی پانیوں کا بیان یا شربتوں کا بیان۔یہاں پر پتلی پینے والی چیز مراد ہے پانی ہو یا اور چیز چونکہ پانی کھانا کا تتمہ ہے اس لیے اس کا بیان کھانے سے متصل فرمایا اور اس کا صرف باب باندھا۔لباس مستقل علیٰحدہ ہے اس لیے اس کے لیے باقاعدہ کتاب اللباس باندھی۔(اشعہ)
حدیث نمبر 111
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پینے میں تین سانس لیتے تھے ۱؎ (مسلم،بخاری)مسلم نے یہ زیادتی کی کہ فرماتے تھے یہ زیادہ سیرکرنے والا زیادہ صحت بخش اور زود ہضم ہے ۲؎
شرح
۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم پانی پیتے میں برتن سے علیٰحدہ منہ کرکے تین سانسیں لیتے تھے۔پہلی سانس پینا شروع کرتے وقت پھر کچھ پی کر سانس لیتے یہ دوسرا سانس شریف ہوا،پھرکچھ پی کر تیسرا سانس لیتے یہ تیسرا سانس ہوا یعنی دوران پینے میں دو سانس لیتے تھے اور کل تین سانس،یہ عمل شریف ہر پینے میں ہوتا تھا خواہ پانی ہو یا دودھ یا شربت یا کوئی اور چیز اور یہ ہی سنت ہے مگر خیال رہے کہ یہ سانسیں برتن سے منہ الگ کرکے ہیں۔ ۲؎ اروی بنا ہے روی سے بمعنی سیرابی اس لیے مشکیزہ کو راویہ کہتے ہیں کہ یہ ذریعہ سیری ہے اور ابری بنا ہے برء سے بمعنی دوری صحت کو براءت کہتے ہیں کہ اس میں مرض سے دوری ہوجاتی ہے،ابرا کا معنی زیادہ صحت بخش ہے اور امراء بنا ہے مرالطعام سے بمعنی کھانا ہضم ہوجانا یعنی تین سانسوں میں پینے سے یہ تین فائدے ہیں،ان فوائد کا آج بھی مشاہدہ ہوتا ہے،ایک سانس میں پانی پینے سے زیادہ پیا جاتا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ آپ سرکار اول میں بسم اﷲ پڑھتے اور تیسری بار پی کر الحمدﷲ پڑھتے تھے،یہی سنت ہے اور فرماتے تھے کہ ایک سانس میں پانی پیناشیطان کاطریقہ ہے اور اس سے مرض کباد یعنی جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے،یہ حدیث بہت اسنادوں پر مروی ہے اس کی تفصیل یہاں مرقات میں ہے۔