Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
110 - 975
حدیث نمبر 110
۱؎ یہ سوال کرنے والے حضرت کوئی اور ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہی فجیع عامری ہوں اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہو۔

۲؎  اس عبارت میں او بمعنی واؤ ہے جیسے آیت کریمہ میں"عُذْرًا اَوْ نُذْرًا"او بمعنی واؤ ہے۔(مرقات) یعنی جب تم کو نہ تو صبح  یا شام دودھ کا پیالہ نہ ساگ پات ملے نہ گھاس اور درختوں کے پتےملیں جنہیں چباکر تم اپنی جان بچاسکتے ہو تب مردار کھا سکتے ہو ۔(مرقات)

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کھاس یا پتے چباکر جان بچ سکتی ہو تو مردار نہ کھائے،اگر یہ بھی میسر نہ ہو تب مردار کھا سکتا ہے۔حضرات صحابہ کرام نے بعض غزوات میں درختوں کے پتے چباکر گزارہ کیا مگر مردار نہ کھایا۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ مردار کھانا جان بچانے کے لیے ہے پیٹ بھرنے کے لیے نہیں،امام شافعی نے بھی آخر میں یہ قول فرمایا اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا،دیکھو مرقات وغیرہ۔
شرح
۱؎ یہ سوال کرنے والے حضرت کوئی اور ہیں اور ممکن ہے کہ وہ ہی فجیع عامری ہوں اور یہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہو۔

۲؎  اس عبارت میں او بمعنی واؤ ہے جیسے آیت کریمہ میں"عُذْرًا اَوْ نُذْرًا"او بمعنی واؤ ہے۔(مرقات) یعنی جب تم کو نہ تو صبح  یا شام دودھ کا پیالہ نہ ساگ پات ملے نہ گھاس اور درختوں کے پتےملیں جنہیں چباکر تم اپنی جان بچاسکتے ہو تب مردار کھا سکتے ہو ۔(مرقات)

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کھاس یا پتے چباکر جان بچ سکتی ہو تو مردار نہ کھائے،اگر یہ بھی میسر نہ ہو تب مردار کھا سکتا ہے۔حضرات صحابہ کرام نے بعض غزوات میں درختوں کے پتے چباکر گزارہ کیا مگر مردار نہ کھایا۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ مردار کھانا جان بچانے کے لیے ہے پیٹ بھرنے کے لیے نہیں،امام شافعی نے بھی آخر میں یہ قول فرمایا اپنے پہلے قول سے رجوع کرلیا،دیکھو مرقات وغیرہ۔
Flag Counter