۱؎ فجیع ف کے پیش اور جیم کے فتحہ سے صحابی ہیں،اپنی قوم عامر کی طرف سے کچھ پیغام حضور کی بارگاہ میں لائے اور مسلمان ہوگئے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔
۲؎ عام نسخوں میں یحل ی کے فتحہ سے جس کے معنی ہیں کہ مردار کی کتنی مقدار ہمارے لیے حلال ہے مگر مقصد یہ ہے کہ کس حالت میں ہم کو مردار کھانے کی اجازت ہے جیساکہ جواب شریف سے ظاہر ہے۔طبرانی کی روایت میں ہے مایحل لناالمیۃ،ی کے پیش ح کے کسرہ سے یعنی کون سی حالت کونسی مجبوری ہمارے لیے مردار کو حلال کرتی ہے۔یہ عبارت بالکل واضح ہے۔
۳؎ یعنی تم کو کس قدر کھانا میسر ہوتاہے تاکہ پتہ لگے کہ تمہیں حالت اضطرار ہے یا نہیں پھر جواب دیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ کبھی فتویٰ حالت معین کرکے بھی دیا جاتا ہے مگر عمومًا اگر مگر سے جواب دیا جا تا ہے کہ اگر یہ حالت ہو تو یہ حکم ہو وہ حالت ہو تو یہ حکم۔
۷؎ یعنی ہماری تنگدستی کا یہ حال ہے کہ ہم کو کئی دن صاف فاقے سےگزرجاتے ہیں کبھی کبھار ایک پیالہ دودھ یا لسی صبح کو مل جاتی ہے اور کبھی کبھار ایک پیالہ شام کو اور اکثر کچھ بھی نہیں نہ صبح نہ شام،یہ مطلب نہیں کہ روزانہ دو وقتہ صبح و شام ایک ایک پیالہ دودھ پیتے ہیں کہ اتنی غذا سے مخمصہ و مجبوری کی حالت نہیں پیدا ہوتی۔بہت لوگ خصوصًا اس زمانہ میں اہل عرب مہینوں صبح شام ایک ایک پیالہ دودھ پر گزارا کرلیتے ہیں۔(مرقات)نہ یہ مطلب ہے کہ روزانہ صبح شام ایک ایک پیالہ گھر سے کھانا لیتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم سے بعض کو ایک پیالہ دودھ صبح ملتا ہے بعض کو ایک پیالہ دودھ شام کو بعض دفعہ یہ بھی نہیں۔
۵؎ یہاں و ابی یعنی میرے باپ کی قسم فرمانا شرعی قسم کے لیے نہیں تاکید کلام کے لیے ہے لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ،رب تعالٰی نے قرآن مجید میں انجیر،زیتون وغیرہ کی قسمیں ارشاد فرمائی ہیں یعنی اتنی غذا جان نہیں بچاسکتی تم لوگ مضطرومجبور ہو چوبیس گھنٹہ میں آدھ پاؤ دودھ جان نہیں بچاسکتا۔
۶؎ اس حدیث کے ظاہری معنی کی بنا پر امام مالک و شافعی و احمد نے فرمایا کہ پیٹ بھرنے کے لیے مردار کھانا جائز ہے،وہ فرماتے ہیں کہ صبح و شام ایک ایک پیالہ دودھ جان بچا سکتا ہے مگر حضور نے اس کے باوجود مردار کھانے کی اجازت دے دی۔ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ جان بچانے کے لیے بقدر سئہ مق یعنی سانس کی بقاء کے لیے مردار کھانا حلال ہے،امام اعظم نے اس حدیث کے معنی وہ کہے جو ابھی ہم نے عرض کیے،اگر بھرنے کے لیے مردار کھانا حلال ہوتا تو"غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَاعَادٍ"قرآن مجید میں کیوں ارشاد ہوتا مردار کو کھائے مگر مزے کے لیے نہ کھائے ضرورت سے زیادہ نہ کھائے،وہ حضرات"غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَاعَادٍ"کے کچھ اور ہی معنی کرتے ہیں۔