۱؎ بعض نسخوں میں ہے باب فی اکل المضطر یعنی مجبورومعذور کے کھانے کا ذکر ہمارے نسخے میں صرف باب ہے بغیر ترجمہ باب کے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس باب میں کھانے کے متعلق مختلف روایات آئیں گی جہاں ترجمہ باب نہیں ہوتا وہاں متفرقات کا بیان ہوتا ہے۔ ۲؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں ہے وعن الفصل الثالث یعنی یہ باب پہلی اور تیسری فصل سے خالی ہے مگر صحیح تر نسخہ یہ ہے کہ پہلی فصل سے خالی ہے مگر مؤلف مصابیح کا حال بیان فرمارہے ہیں کہ یہاں پہلی فصل نہیں،رہی تیسری فصل وہ تو مصنف کی اپنی ہوتی ہے لائیں یا نہ لائیں اس کے ذکر کی ضرورت نہیں، چنانچہ برتن ڈھکنے کے باب میں بھی تیسری فصل نہیں مگر اس کا ذکر نہ کیا۔(اشعہ)
حدیث نمبر 108
روایت ہے حضرت فجیع عامری سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہمارے لیے مردار سے کیا حلال ہے ۲؎ فرمایا تمہارا کھانا پینا کیا ہے۳؎ ہم نے عرض کیا صبح و شام ایک ایک پیالہ پی لیتے ہیں۴؎ ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر کی ایک پیالہ صبح اورایک پیالہ شام فرمایا میرے والد کی قسم یہ تو بالکل بھوک ہے ۵؎ پھر ہمارے لیے اس حالت میں مردار حلال فرمایا ۶؎(ابوداؤد)
شرح
روایت ہے حضرت فجیع عامری سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہمارے لیے مردار سے کیا حلال ہے ۲؎ فرمایا تمہارا کھانا پینا کیا ہے۳؎ ہم نے عرض کیا صبح و شام ایک ایک پیالہ پی لیتے ہیں۴؎ ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر کی ایک پیالہ صبح اورایک پیالہ شام فرمایا میرے والد کی قسم یہ تو بالکل بھوک ہے ۵؎ پھر ہمارے لیے اس حالت میں مردار حلال فرمایا ۶؎(ابوداؤد)