۱؎ آپ اسماء بنت یزید ابن سکن ہیں،انصاریہ صحابیہ ہیں،بہت عاقلہ بہادر تھیں،جنگ یرموک میں حاضر ہوئیں، خیمہ کی چوب سے نو کافر مارے۔(اشعہ)
۲؎ یعنی رسم کے مطابق ہم نے کہہ دیا کہ ہم کو بھوک نہیں کھانے کی خواہش نہیں۔
۳؎ یعنی اگر کھانے کی خواہش ہو تو کھالو ایسا نہ ہو کہ خواہش ہو تو مگر خلاف واقعہ کہہ دو کہ ہم کو خواہش نہیں۔اس میں دنیاوی نقصان بھی ہے اور کھانے سے محرومی بھی اور دینی نقصان بھی ہے جھوٹ کا گناہ بھی۔بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ نہ تو کھانے والا جھوٹی تواضع کرے نہ آنے والا جھوٹا تکلف۔اگر کھانے والے کے پاس کافی ہو تو کہے کہ آؤ کھالو ورنہ نہ کہے یہ ہی آنے والے کو چاہیے کہ اگر خواہش ہو تو بیٹھ جائے کھالے ورنہ معذرت کردے اسلام میں تکلف نہیں۔