روایت ہے حضرت عمر ابن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور میرا ہاتھ پیالے میں گھومتا تھا ۲؎ تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا نام لو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۳؎(مسلم،بخاری)
۱؎ آپ عمر ابن عبداللہ ابن عبدالامہ ہیں،قرشی مخذومی ہیں،جناب ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے فرزند حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتیلے بیٹے ہیں، ۲ ہجری میں حبشہ میں پیدا ہوئے،حضور انور کی وفات کے وقت آپ کی عمر نو سال تھی، ۸۳ھ میں عبدالملک ابن مروان کے زمانہ حکومت میں وفات پائی،جنت البقیع شریف میں دفن ہوئے،جب حضور انور نے حضرت ام سلمہ سے نکاح کیا تو آپ کو اور آپ کی بہن زینب کو اپنی پرورش میں لے لیا رضی اللہ عنہم اجمعین۔
۲؎ یعنی کبھی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالہ میں کھانا کھاتا تھا تو میں کھانے کے آداب سے واقف نہ تھا اس لیے ہر طرف سے کھانا کھاتا تھا جدھر سے دل چاہا ادھر سے بوٹی لے لی،ادھر ہی لقمہ شوربے میں بھگولیا۔
۳؎ یعنی بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ہر طرف سے نہ کھاؤ،یہ تینوں حکم جمہور علماء کے نزدیک استحبابی ہیں،بعض آئمہ کے ہاں داہنے ہاتھ سے کھانا واجب ہے۔خیال رہے کہ ہر چیز پیتے وقت بھی بسم اللہ پڑھے اور داہنے ہاتھ سے پئے یہ ہی سنت ہے،یہ تینوں امور سنت علی العین ہیں یعنی اگر جماعت میں سے صرف ایک آدمی کرلے تو کافی نہیں ہرشخص داہنے ہاتھ سے کھائے،ہرشخص بسم اللہ پڑھے،ہر شخص اپنے سامنے سے کھائے،اگر اکیلا بھی کھائے تب بھی اپنے سامنے سے کھائے،ہاں اگر طباق میں مختلف مٹھائیاں یا مختلف قسم کی کھجوریں ہیں تو جہاں سے چاہے کھالے جیساکہ آئندہ آوے گا۔(مرقات)