۱؎ فی الثدی فتق کے فاعل کا حال ہے جیسے"تَنْحِتُوۡنَ الْجِبَالَ بُیُوۡتًا"یعنی جو دودھ عورت کے پستان میں سے ہو اور بچے کی آنتوں میں پہنچ کر اس کی بھوک دفع کرے خواہ پستان ہی سے پلایا جائے یا چمچے وغیرہ میں لے کر۔خلاصہ یہ ہے کہ بچہ کو شیر خوارگی کی مدت میں جو دودھ پلایا جائے اس پر رضاعت کے احکام مرتب ہوں گے بعد میں نہیں۔
۲؎ یعنی جو مدت دودھ پلانے کی ہے ڈھائی سال کی عمر اس کے بعد اگر پلایا گیا تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی لہذا اگر کسی بچہ کا دودھ پہلے ہی چھوڑا دیا گیا تو یہ چھوڑانا معتبر نہیں۔خیال رہے کہ ڈھائی سال کی عمر کے بعد بچہ کو عورت کا دودھ پلانا ممنوع ہے کہ یہ دودھ انسانی جز ہے جس کو بلاضرورت استعمال کرنا حرام ہے بعض کان یا آنکھ کے درد میں لڑکی والی عورت کا دودھ مفید ہوتا ہے اگر طبیب حاذق کہےکہ اس کے سوا کوئی علاج نہیں تو اسے علاجًا کان یا آنکھ میں ٹپکانا جائز ہے۔(مرقات)یہ حدیث ان احادیث کی ناسخ ہے جن سے ثابت ہے کہ جوان لڑکے کو دودھ پلادینے سے حرمت آجاتی ہے اس پر صحابہ کرام بلکہ امت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتفاق ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس نسخ کی تصریح فرمائی ہے۔ حضور فرماتے ہیں لا رضاع الا ماکان فی حولین یہ حدیث مرفوع بھی ہے اور حضرت ابن عباس،علی،ابن عمر،ابن مسعود رضی اللہ عنہم پر موقوف بھی،اسے امام ترمذی نے صحیح فرمایا، ابوداؤد میں بروایت حضرت ابن مسعود ہے کہ اس زمانہ میں شیر خوارگی حرمت ثابت کرے گی۔جب دودھ سے گوشت بنے اور ہڈی بڑھے جن صحابہ سے جوان بچہ کو دودھ پلانے کی روایت آئی ہیں ان حضرات نے اس سے رجوع فرمالیا یہاں اس کی بہت نفیس تحقیق مرقات وغیرہ نے کی۔