| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں مجھ پر میرے ماموں ابوبردہ ابن نیار گزرے ۱؎ اور ان کے ساتھ جھنڈا تھا ۲؎ میں نے کہا آپ کہاں جاتے ہیں فرمایا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے کہ اس کا سر آپ کے پاس لاؤں ۳؎ (ترمذی، ابوداؤد،نسائی،اور ابن ماجہ)دارمی کی روایت میں ہے کہ مجھے حضور نے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں ۴؎ اور اس روایت میں بجائے ماموں کے چچا فرمایا ۵؎
شرح
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعد نسخوں میں بجائے خالی کے عمی ہے یعنی میرے چچا گزرے مگر یہ غلط ہے صحیح خالی ہے یعنی میرے ماموں گزرے۔ ۲؎ یہ جھنڈا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیا تھا تاکہ اس بات کی علامت ہو کہ آپ سرکاری کام سے جارہے ہیں اور لوگوں میں اس سزا کا اعلان ہوجائے اسلام میں مجرموں کو علانیہ سزائیں دی جاتی ہیں چور کے ہاتھ بازار میں کاٹے جاتے ہیں، زانی کو علانیہ چوراہوں میں سنگسار کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو مرتدین و باغی لوگوں کو بعد قتل ان کے سر بازار میں لٹکائے جاتے ہیں۔ ۳؎ یعنی اس نے اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کیا ہے مجھے اس کو قتل کرکے سر بارگاہ عالی میں حاضر کرنے کا حکم ملا ہے غالبًا یہ شخص کوئی مدعی اسلام ہوگا پھر س نے یہ حرکت کرلی ہوگی یہ شخص مجرم و مرتد قرار دیا گیا اگر ہمارے ملک میں مجوسی رہتے ہوں جو اپنی ماں بہن بیٹی سے نکاح کرلیتے ہیں تو ہم ان کو اس حرکت سے نہ روکیں گے کہ یہ ان کی مذہبی رسم ہے اور ہمارے ہاں کفار کو مذہبی آزادی ہے لہذا یہ حدیث اس فقہی حکم کے خلاف نہیں۔ ۴؎ اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ پہلے یہ شخص مسلمان تھا بعد میں اس نکاح کو حلال سمجھ کر کافر و مرتد ہوگیا لہذا اسے قتل کرنے اور اس کا مال ضبط کرنے کا حکم صادر ہوا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جو مدعی اسلام حرام عورتوں سے نکاح جائز مانے و ہ مرتد ہے اور جو حرام سمجھ کر یہ نکاح کرے وہ بدترین فاسق ہے اور جسے حرمت کی خبر ہی نہ ہو وہ نکاح کرلے اسے فورًا علیحدگی کا حکم دیا جائے دوسرے شخص نے اگرصحبت بھی کرلی تو یہ صحبت محض زنا ہوگی اور بچہ کا نسب اس سے ثابت نہ ہوگا اور تیسرے شخص نے اگرصحبت کرلی تو یہ وطی بالشبہ ہوگی بچہ صحیح النسب ہوگا۔خیال رہے کہ جو شخص حرام عورت کو حرام جانتے ہوئے نکاح کرلے تو امام شافعی و احمد و مالک کے ہاں اس پر حد زنا ہے اور امام ابوحنیفہ کے ہاں اس پرحد نہیں بلکہ سخت تعزیر ہے یہاں پہلی قسم کا آدمی مراد ہے یعنی حلال جان کر نکاح کرنے والا،اسی لیے اسے قتل کرایا گیا اور اس کا مال لیا گیا،ورنہ زانی پر رجم ہے اور اس کا مال اس کے وار ثوں کا ہے ہاں مرتد کا وہ حکم ہے جو یہاں مذکور ہوا،(از کتب فقہ و مرقات وغیرہ) ۵؎ ہوسکتا ہے کہ بردہ ابن نیار حضرت براء کے نسبی ماموں ہوں اور رضاعی چچا لہذا یہ دونوں روایات درست ہیں ورنہ وہ نسبًا ماموں ہیں چچا نہیں، حضرت بردہ ابن نیار عقبہ ثانیہ کی بیعت میں شریک ہوئے مع اپنے ستر۷۰ ہمراہیوں کے بدر اور تمام غزوات میں شامل رہے عہد مرتضوی میں تمام جنگوں میں حضرت علی کے ساتھ رہے(اشعہ)