Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
95 - 1040
حدیث نمبر 95
 روایت ہے حضرت حجاج ابن حجاج اسلمی سے وہ اپنے باپ سےراوی ۱؎ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کون چیز مجھ کو شیر خوارگی کا حق ادا کراسکتی ہے ۲؎ فرمایا غلام یا لونڈی کی پیشانی ۳؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،دارمی)
شرح
۱؎ یہ حجاج اسلمی صحابی ہیں انکے بیٹے حجاج ابن حجاج تابعی ہیں یہ تابعی  ۱۳۱ھ؁ میں مروان حمار کے زمانہ میں وفات پائی،یہ وہ حجاج ظالم نہیں کہ وہ حجاج ثقفی ہے دیکھو۔(اشعہ ومرقات)

۲؎ مذمہ وذمام فتح وکسرہ سے بمعنی حق و حرمت و احترام یعنی جس کے ضائع کرنے والے کی ذمہ و برائی کی جائے۔مطلب یہ ہے کہ وہ کون سی خدمت اپنی دودھ کی ماں کی کروں جس سے اس کے دودھ کا حق ادا ہو معلوم ہوا کہ دودھ کی اجرت دے دینے سے اس کا حق ادا نہیں ہوجاتا۔

۳؎ یعنی اپنی دائی کو اعلیٰ درجہ کی لونڈی یا غلام دے دو جو اس کی خدمت کرے،خدمت کا بدلہ خدمت ہے اور دائی خود کسی کی لونڈی ہو یا اس کا خاوند کسی کا غلام ہو تو اسے خرید کر آزاد کردو پھر بھی اس کا احترام و خدمت بچہ پر لازم ہے۔
Flag Counter