روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے اس کی پھوپھی پر یا پوپھی سے اس کی بھتیجی پر ۱؎ یا عورت سے اس کی خالہ پر یا خالہ سے اس کی بھیتجی پر۱؎ نہ چھوٹی سے بڑی پر نکاح کیا جائے نہ بڑی سے چھوٹی پر ۲؎(ترمذی، ابوداؤد، دارمی،نسائی)اور نسائی کی روایت میں بھانجی تک ہے ۳؎
شرح
۱؎ اس جگہ ان عورتوں کا ذکر ہے جنہیں نکاح یا صحبت میں جمع نہیں کرسکتے قرآن کریم نے فرمایا:" وَ اَنۡ تَجْمَعُوۡا بَیۡنَ الۡاُخْتَیۡنِ"دو بہنوں کو جمع کرنا حرام ہے،مگر حدیث پاک میں کچھ اور تفصیل بیان ہوئی اور فقہاء نے اس کے لیے قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ جن دو عورتوں میں حرمت دو طرفہ ہو کہ جسے مرد مانا جائے اس پر دوسری عورت حرام ہو ان کا جمع کرنا حرام ہے یہاں پھوپھی اور بھتیجی سے تینوں قسم کی پوپھیاں و بھتیجیاں مراد ہیں سگی ہوں یا علاتی یا اخیافی یعنی باپ کی سگی بہن علاتی بہن اخیافی بہن یوں ہی سگے بھائی کی بیٹی علاتی بھائی کی اور اخیافی بھائی کی ان سب کا اجتماع حرام ہے۔ ۲؎ چھوٹی بڑی سے مراد رشتہ کی چھوٹی بڑی ہے خالہ و پھوپھی بڑی ہیں اگرچہ عمر میں چھوٹی ہوں یہ جملہ پچھلے جملہ کی تشریح ہے۔ ۳؎ اس قسم کی دو عورتوں کے جمع کرنے کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ عورتیں ذی رحم محرم ہوتی ہیں اور ان کا سوکن بننا جھگڑے فساد کا ذریعہ ہے تویہ اجتماع قطعیت رحم کا سبب ہے۔خیال رہے کہ ایسی دوعورتوں کا حقیقی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام اور حکمی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام لہذا پھوپھی کو طلاق دینے کے بعد جب تک پھوپھی عدت میں ہے تب تک اس کی بھتیجی سے نکاح نہیں کرسکتے کہ عدت حکمی نکاح ہے ہاں پھوپھی کے انتقال کے بعد فورًا ہی اس کی بھتیجی سے نکاح کرسکتے ہیں کہ خاوند پر عدت نہیں۔