| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ فرمایا ۱؎ یہ لوگ دشمن کے مقابل ہوئے ان پر جہاد کیا پھر غالب آگئے ان کی کچھ عورتیں قید کرلیں ۲؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ نے ان کی صحبت میں حرج سمجھا ان کے مشرک خاوندو ں کی وجہ سے ۳؎ تب اس بارے میں یہ آیت اﷲ تعالٰی نے اتاری کہ تم پر خاوند والیاں عورتیں حرام سوا ان کے جن کے تم مالک ہوجاؤ ۴؎ یعنی وہ ان پر حلال ہیں جب کہ ان کی عدت گزر جائے۵؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اوطاس طائف شریف کے علاقہ میں ایک دادی ہے جس میں قبیلہ ہوازن آباد تھا حنین کے ساتھ وہ بھی فتح ہوا۔ ۲؎ سبایا جمع ہے سبۃ کی بمعنی قیدی عورت اوطاس میں مرد کفار بھی قید تھے عورتیں بھی یہاں صرف عورتوں کا ذکر ہے اس وجہ سے جو آگے مذکور ہے۔ ۳؎ یہ حضرات سمجھے کہ چونکہ یہ عورتیں منکوحہ ہیں ان کے خاوند زندہ ہیں ان سے طلاق حاصل کیے بغیر ان سے صحبت حلال نہیں۔ ۴؎ یعنی قید شدہ کافرہ عورتیں تمہاری لونڈیاں ہوگئیں ان کے احکام وہ نہیں جو آزاد مسلم عورتوں کے ہیں ان کے قید ہوتے ہی ان کے نکاح ختم ہوگئے۔ ۵؎ عدت سے مراد ایک حیض یا ایک ماہ گزرجانا ہے جسے فقہاء استبراء کہتے ہیں،کافرہ قیدیہ عورت سے استبراء صحبت حلال ہے، یہ تفسیر کسی راوی حدیث کی ہے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ قیدیہ کافرہ خواہ مشرکہ ہو یا اہل کتاب اس سے بعد استبراء مالک کو صحبت حلال ہے،امام شافعی کے ہاں کتابیہ قیدیہ سے تو صحبت حلال ہے،مشرکہ قیدیہ سے صحبت حرام ،وہ یہاں فرماتے ہیں کہ شاید یہ قیدی عورتیں مسلمان ہوچکی تھیں مگر یہ تاویل بہت بعید ہے۔(مرقات)