| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عقبہ سے ۱؎ کہ انہوں نے ابو اھاب ابن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا تو ایک عورت آئی بولی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے انہوں نے نکاح کیا ہے اسے دودھ پلایا ہے ۲؎ تو اس سے عقبہ نے کہا کہ مجھے پتہ نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے ۳؎ اور نہ تم نے مجھے اس کی خبر دی انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس بھیجا ان سے پوچھا وہ لوگ بولے ہم کو خبر نہیں کہ ہماری لڑکی کو اس نے دودھ پلایا ہے ۴؎ تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ سوار ہو کر پہنچے اور آپ سے پوچھا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نکاح کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ یہ کہا گیا ۵؎ چنانچہ عقبہ نے اسے چھوڑ دیا اس نے دوسرے خاوند سے نکاح کرلیا۶؎ (بخاری)
شرح
۱؎ آپ نوفل ابن عبد مناف کی اولاد سے ہیں فتح مکہ کے دن اسلام لائے اہل مکہ میں آپ کا شمار ہے صحابی ہیں۔ ۲؎ لہذا عقبہ اور ان کی منکوحہ دودھ کے بھائی بہن ہیں ان کا یہ نکاح درست نہ ہوا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ کوئی عورت بلاوجہ ہر بچہ کو دودھ نہ پلائے اور جس کو پلائے اسے مشہور کردے تاکہ آئندہ نکاح میں احتیاط رہے۔(مرقات) ۳؎ یعنی مجھے نہ تو میرے گھر والوں نے یہ بتایا نہ دوسرے کسی سے مجھے یہ معلوم ہوا۔ ۴؎ یعنی نہ تو عقبہ کے گھر والوں کو اس واقعہ کا علم تھا نہ ان کی منکوحہ کے گھر والوں کو اگر ان میں سے کسی کو اس کی خبر ہوتی تو نکاح ہی نہ ہوتا۔ ۵؎ یعنی اے عقبہ تم جیسے متقی کی احتیاط سے یہ بات بہت بعید ہے کہ جس عورت کے متعلق رضاعی بہن ہونے کا وہم بھی ہوجائے اسے اپنے نکاح میں رکھو بہتر یہ ہی ہے کہ اسے علیحدہ کرو،اس حدیث کی بنا پر احناف بھی کہتے ہیں کہ صرف ایک عورت کی خبر پر عورت کو علیحدہ کردینا افضل ہے، مگر رضاعت کا ثبوت دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی سے ہوگا، امام شافعی کے ہاں چار عورتوں کی گواہی سے بھی رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،امام مالک کے ہاں دو عورتوں کی گواہی سے بھی رضاعت کا ثبوت ہوجاتا ہے، سیدنا عبداﷲ ابن عباس کا فرمان تھا کہ ایک دائی کی خبر و قسم سے بھی رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،مذہب احناف بہت قوی ہے،اس حدیث میں حرمت کا فتویٰ نہیں بلکہ تقویٰ و احتیاط کا مشورہ ہے، اسی لیے سرکار عالی نے دائی کو نہ بلایا نہ اس کے بیان لیئے نہ کوئی اور ثبوت مانگا دائی کی خبر پر خبر سن کر یہ ارشاد فرمایا۔ ۶؎ یعنی عقبہ نے طلاق دے دی، بعد عدت اس عورت نے دوسری جگہ نکاح کرلیا۔مرقات نے فرمایا کہ عقبہ ابن حارث نے ام یحیی بنت ابی اھاب سے نکاح کیا ایک حبشی لونڈی نے کہا میں نے ان دونوں کو دودھ پلایا ہے پھر خود اس لونڈی نے بارگاہ رسالت میں یہ عرض کیا اس پر یہ ارشاد عالی ہوا۔