Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
900 - 1040
حدیث نمبر900
روایت ہے حضرت حبیب ابن مسلمہ فہری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ابتداء میں حضور نے چہارم نفل دیا اور لوٹنے پر تہائی ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎  آپ قرشی فہری ہیں،آپ کو حبیب روم کہا جاتا تھا کیونکہ آپ نے روم پر بہت جہاد کیے،بڑے بزرگ مقبول الدعاءصحابی ہیں،  ۴۲ھ؁ میں شام میں وفات پائی۔(اکمال،اشعہ،مرقات)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو الجزائر پر حاکم بنایا تھا۔

۲؎  جب فریقین کے لشکروں کا کچھ حصہ میدان جنگ میں پہنچ چکا ہو باقی لشکر پیچھے آرہا ہو اسے بدء کہتے ہیں اور جب لشکر جہاد سے واپس لوٹ جائیں کچھ لوگ وہاں رہ گئے ہوں اسے رجوع کہتے ہیں۔بدء والوں کی جنگ آسان ہے کہ لشکر پیچھے آرہا ہے ان کی مدد مل جاوے گی مگر رجعت والوں کا جہاد بہت مشکل کہ انہیں مدد ملنے کی امید نہیں کہ لشکر جاچکا اس لیے حضور انور نے بدء والوں کو کم نفل دیا یعنی چہارم اور رجوع والوں کو زیادہ دیا یعنی کل غنیمت کا تہائی۔
Flag Counter