۱؎ یعنی اگر کسی کوغنیمت کے مال سے نفل دیتے تو خمس نکال کر دیتے تھے خواہ چہارم عطا فرمادیں یا تہائی اس طرح کہ اولًا تمام غنیمت سے خمس نکال لیا پھر بقیہ چار حصوں میں سے یہ نفل دی پھر بقیہ غنیمت غازیوں پر تقسیم فرمادیا لیکن سلب یعنی مقتول کے سامان سے خمس نہ لیتے تھے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور انور سلب سے خمس نہ لیتے تھے۔ بعض شارحین نے اس جملہ کے معنی یہ کیے ہیں کہ یہ نفل خمس میں سے عطا فرماتے تھے یعنی اولًا تمام غنیمت سے خمس نکال لیا پھر اس خمس کا چہارم یا تہائی خاص بہادروں کو نفل کے طریق پر عطا فرمایا مگر یہ معنی بہت بعید ہیں پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔