Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
899 - 1040
حدیث نمبر899
روایت ہے حضرت مجمع ابن جاریہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ خیبر حدیبیہ والوں پر بانٹ دیا گیا۲؎  چنانچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اٹھارہ حصوں پرتقسیم فرمایا اورلشکر پندرہ سو نفری تھا جن میں تین سو سوار تھے تو سوار کو دو حصے عطا فرمائے اور پیادہ کو ایک حصہ۳؎ (ابوداؤد)اور ابوداؤد نے کہا کہ ابن عمر کی روایت زیادہ صحیح ہے اور اس پر عمل ہے ۴؎ مجمع کی حدیث میں وہم یہ ہوگیا کہ انہوں نے کہا تین سو سوار حالانکہ تھے دوسو سوار ۵؎
شرح
۱؎  مجمع میم کے پیش سے جیم کے فتحہ سے دوسری میم کے شد سے،آپ خود تو صحابی ہیں مگر آپ کا باپ جاریہ سخت منافق تھا، ان منافقوں میں سے تھا جنہوں نے مسجد ضرار بنائی تھی۔ حضرت مجمع مدنی ہیں،قاری قرآن تھے،حضرت عبداﷲ ابن مسعود نے نصف قرآن آپ سے ہی سیکھا تھا،امیر معاویہ کی خلافت کے آخری دور میں وفات پائی۔(اکمال،مرقات،اشعہ)رب کی شان ہےکہ باپ منافق بیٹا مخلص"یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ"۔ 

۲؎  حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین خیبر کا آدھا حصہ اپنے واسطے رکھا اور آدھا حصہ مجاہدین میں تقسیم فرمایا  اور آدھے حصے کی تقسیم کا یہاں ذکر ہے،فتح خیبر صلح حدیبیہ کے ایک سال بعد ہوئی،اس جنگ میں صرف حدیبیہ والے صحابہ ہی شریک کیے گئے اور کسی کو شرکت کی اجازت نہ دی گئی تھی اس لیے تقسیم بھی انہیں میں ہوئی اس کا ذکر سورۂ فتح شریف میں ہے۔(از اشعہ،مرقات)

۳؎  یعنی حضور انور نے اس نصف خیبر کے اٹھارہ حصے کیے جو غازیوں میں تقسیم کے لیے تھا،ایک حصہ سو غازیوں کے لیے مقرر فرمایا۔غازیان خیبر کل پندرہ سو تھے جن میں سے تین سوسوار اور بارہ سو پیادہ۔ان تین سو سواروں کو چھ حصے(پلاٹ)بخشے اور بقیہ بارہ سو پیادوں کو بارہ حصے یعنی بارہ پلاٹ عطا فرمائے تو پیادوں میں سے ایک پلاٹ سو غازیوں کو عطا فرمایا اور سواروں میں سے ایک پلاٹ پچاس غازیوں کو بخشا لہذا چھ پلاٹ ان کے اور بارہ پلاٹ پیادوں کے لہذا سوارکو دوگنا دیا گیا پیادہ کو اکہرا۔ یہ حدیث حضرت امام اعظم کی دلیل ہے کہ سوار غازی کو پیادہ غازی سے دوگنا ملتا ہے،امام شافعی کے ہاں سوارکو تگنا ملتا ہے  ان کے حساب سے خیبر کے اکیس حصے ہونے چاہئیں تھے  تین سو غازی سواروں کے نو حصے اور بارہ سو کے بارہ پلاٹ مگر حصے ہیں اٹھارہ۔

۴؎  یعنی مجمع کی حدیث سے حضرت ابن عمر کی حدیث زیادہ صحیح ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ سوار کے تین حصے ہیں جو ابھی کچھ پہلےگزرگئی۔ہم نے وہاں ہی عرض کردیا کہ حدیث ابن عمر میں تعارض ہے،آپ سے دوگنے حصہ کی روایت بھی ہے لہذا کم کی روایت پر احناف نے عمل کیا کہ کم یقینی ہے زائد مشکوک ہے۔ دوسرے اماموں نے زیادہ کی مشکوک روایت پر عمل فرمایا۔ 

۵؎  مگر اس حساب سے بھی یہ تقسیم صحیح نہیں ہوتی کیونکہ غازیان خیبر کل پندرہ سو تھے، اگر دوسو سوار ہوں اور ان کے حصے چھ پلاٹ ہوں تو باقی پیادہ غازی تیرہ سو ہوئے انہیں تیرہ پلاٹ ملنے چاہئیں۔ تو کُل انیس پلاٹ ہوتے ہیں  حالانکہ حضور انور نے اٹھارہ پلاٹ تقسیم فرمائے۔خیال رہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی روایت ہے کہ سوار غازی کے دو حصے ہیں۔(مرقات و اشعہ)
Flag Counter