Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
89 - 1040
حدیث نمبر 89
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے حالانکہ ان کے پاس ایک شخص تھا شاید آپ کو یہ ناپسند آیا ۱؎ تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میرے بھائی ہیں فرمایا غور کرلو کہ تمہارے بھائی کون ہیں۔شیر خوارگی بھوک کے زمانہ سے ہوتی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کیونکہ یہ شخص درحقیقت جناب ام المومنین کا رضاعی بھائی نہ تھا حضرت ام المومنین غلطی سے اس کا اپنا دودھ کا بھائی سمجھے ہوئے تھیں،اور آپ نے اس کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی تھی۔

۲؎ یعنی اگر بڑا بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے رضاعت کے احکام ثابت نہ ہوں گے جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ عورت کا دودھ اس کی بھوک دفع کردے اور وہ اس دودھ پر ہی گزارہ کرسکے تب دودھ پینا شرعًا معتبر ہے اور وہ عمر دو یا ڈھائی سال کی ہے چونکہ اس شخص نے اس عمر کے بعد دودھ پیا ہے اس لیے یہ تمہارا رضاعی بھائی نہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ازواج مطہرات احترام میں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ احکام میں لہذا ان پر پردہ فرض ہے ان کی اولاد سے امت کا نکاح درست ہے ان کو امت کی میراث نہ ملے گی دوسرے یہ کہ ڈھائی برس کے بعد دودھ پینا حرمت رضاعت ثابت نہیں کرتا۔
Flag Counter