۱؎ کیونکہ یہ شخص درحقیقت جناب ام المومنین کا رضاعی بھائی نہ تھا حضرت ام المومنین غلطی سے اس کا اپنا دودھ کا بھائی سمجھے ہوئے تھیں،اور آپ نے اس کو گھر میں آنے کی اجازت دے دی تھی۔
۲؎ یعنی اگر بڑا بچہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے رضاعت کے احکام ثابت نہ ہوں گے جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ عورت کا دودھ اس کی بھوک دفع کردے اور وہ اس دودھ پر ہی گزارہ کرسکے تب دودھ پینا شرعًا معتبر ہے اور وہ عمر دو یا ڈھائی سال کی ہے چونکہ اس شخص نے اس عمر کے بعد دودھ پیا ہے اس لیے یہ تمہارا رضاعی بھائی نہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ازواج مطہرات احترام میں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ احکام میں لہذا ان پر پردہ فرض ہے ان کی اولاد سے امت کا نکاح درست ہے ان کو امت کی میراث نہ ملے گی دوسرے یہ کہ ڈھائی برس کے بعد دودھ پینا حرمت رضاعت ثابت نہیں کرتا۔