Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
898 - 1040
حدیث نمبر898
روایت ہے حضرت عمیر سے جو ابی اللحم کے مولیٰ ہیں ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں اپنے مولاؤں کے ساتھ خیبر میں حاضر ہوا تو ان مولاؤں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض معروض کی۲؎  اور عرض کیا کہ میں غلام ہوں تو میرے متعلق حکم دیا مجھے ایک تلوار پہنادی گئی تو میں اسے کرہیٹرتا گھسیٹتا تھا۳؎ پھر میرے لیے کچھ معمولی سامان کا حکم دیا ۴؎  اور میں نے حضور پر ایک منتر پیش کیا جو میں دیوانوں پر کرتا تھا تو حضور نے مجھے کچھ نکال دینے کا حکم دیا اور کچھ کے باقی رکھنے کا ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد) مگر ابوداؤد کی روایت ان کے قول متاع پر ختم ہوگئی۔
شرح
۱؎  حضرت عمیر اس وقت غلام تھے بعد میں آزاد ہوئے،انہیں اس وقت مولیٰ( مفتی)فرمانا آئندہ کے لحاظ سے ہے لہذا حدیث واضح ہے۔

۲؎  یا غزوہ میں بھرتی فرمالینے کی سفارش کی یا میری بہادری کی کچھ تعریف کی، دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔

۳؎  یہ تلوار کی عطا جہاد سے پہلے یا دوران جہاد میں تھی کہ حضور انو رکی طرف سے مجھے تلوار پہنائی گئی مگر میں اتنا چھوٹا یا پست قد تھا کہ تلوار میرے جسم کے نیچے گھسٹتی تھی۔

۴؎  خرثی خ کے پیش ر کے جزم سے بمعنی سرخ چیونٹی،اب اصطلاح میں معمولی اور چھوٹی چیز کوکہتے ہیں۔متاع سے مراد گھر کا سامان جیسے ہانڈی لوٹا وغیرہ یعنی مجھے بعد جہاد تقسیم غنیمت کے وقت کچھ معمولی سامان بطور عطیہ عنایت فرمایا باقاعدہ حصہ نہ دیا کیونکہ غلام کو غنیمت کا حصہ نہیں ملتا۔

۵؎  یعنی مجھے کچھ دم یاد تھا جو دیوانوں پر پڑھ کر دم کیا کرتا تھا جب حضور انور پر پیش کیا تو ناجائز یا شرکیہ کفریہ الفاظ کے نکال دینے کا حکم دیا اور جو الفاظ جائز تھے ان کے باقی رکھنے کی اجازت دی۔ قرآنی آیات اور منقولہ دعاؤں کے علاوہ تمام وظیفوں کا یہ ہی حکم ہے کہ جائز الفاظ باقی رکھے جائیں ناجائز نکال دیئے جائیں۔ان شاءاﷲ اس کی تحقیق باب الرقی میں آئے گی۔
Flag Counter