۱؎ من کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ جو مسلمان جہاد میں کافر کو قتل کرے اسے مقتول کا سامان ملے گا خواہ وہ غنیمت کے حصہ کا مستحق ہو یا نہ ہو لہذا غلام،بچہ،عورت،نوکر،تاجر وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں۔بعض نے فرمایا کہ مَن سے مراد صرف مجاہدین ہیں یعنی غنیمت کے حصے کے مستحق لوگ مگر اول احتمال قوی معلوم ہوتا ہے۔اسی سلب کے بارے میں اماموں کا اختلاف ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ احناف کے ہاں یہ قانون شرعی نہیں، اگر حاکم جہاد میں یہ اعلان کردے تو ملے گا ورنہ نہیں،شوافع کے ہاں یہ قانون ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم صرف ایک سلب کے لیے نہیں جتنے مقتول مارے سب کا سامان لے۔سامان میں سواری،کپڑے،زیور،ہتھیار سب داخل ہیں۔