۱؎ تمام نبیوں پر بے شمار بزرگیاں بخشیں،حضور کو آخری نبی،تمام خلق کا نبی،ہمیشہ تک کا نبی بنایا،رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین قرار دیا،تمام انبیاءورسل کل قیامت میں حضور کے جھنڈے تلے ہوں گے۔غرضیکہ ان کو وہ بزرگیاں بخشیں جو مخلوق کے وہم و گمان سے وراء ہیں یا دینے والا رب جانے یا لینے والا محبوب۔شعر
ندانم کدامی سخن گویمت کہ بالا تری زائچہ من گویمت
حیران ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
۲؎ چونکہ یہ امت خیرالرسل کی امت ہے اس لیے تمام امتوں سے افضل ہے ،رب فرماتاہے:"کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ"شعر
لما دعا اﷲ راعینا لدعوتہ با فضل الرسل کنا افضل الامم
یعنی جب اﷲ تعالٰی نے ہمارے رسول کو افضل رسل کہا تو ہم افضل امم ہوگئے۔خیال رہے کہ جیسے حضور کی امت تمام امتوں سے افضل ہے حضور کی نسبت سے یوں ہی حضور کے والدین تمام نبیوں کے غیر نبی والدین سے،حضور کے صحابہ تمام صحابہ سے،حضور کے اہل بیت تمام نبیوں کے اہل بیت سے،حضور کا زمانہ تمام زمانوں سے،حضور کا شہر مدینہ تمام نبیوں کے شہروں سے غرضیکہ حضور کی ہر منسوب چیز دیگر انبیاء کرام کی ہر چیز سے افضل ہے،حضور کی ازواج پاک تمام نبیوں کی ازواج سے افضل،رب تعالٰی فرماتاہے:"یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ"۔
۳؎ یعنی اس امت کی بہت سی خصوصیات ہیں:ان میں سے ایک یہ ہے کہ صرف اس امت کے لیے جہاد کی غنیمتیں حلال کی گئیں پچھلی امتوں میں جہاد تھا مگر غنیمتیں حلال نہ تھیں جیسے قربانی کا گوشت کہ صرف ہمارے لیے حلال ہوا۔لنا میں حضور انور نے اپنی ذات کریم کو بھی امت کے ساتھ ذکر فرمایا کرم نوازی کے طور پر۔