| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی ۱؎ اور خالد ابن ولید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقتول کے سامان کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا اور اس سامان سے خمس نہ لیا ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ غزوہ خیبر میں شریک رہے اور فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا شام میں قیام رہا، وہاں ہی ۷۳ھ تہتّرمیں وفات پائی اور حضرت خالد ابن ولید تو آسمان تاریخ پر سورج کی طرح چمک رہے ہیں،امت رسول اﷲ کے بڑے بہادر صحابی،جماعت صحابہ میں بڑے پایہ کے صحابی ہیں، آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے رضی اﷲ عنہم اجمعین۔ ۲؎ یعنی سارا سلب قاتل غازی کو بخشا اس سے خمس بھی نہ لیا غنیمت میں خمس لیا جاتا ہے اس میں نہیں،اس کی تفصیل پہلی فصل میں گزر چکی۔