| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک چربی کا تھیلا پایا تو میں اسے لپٹ گیا میں نے کہا کہ آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا ۲؎ پھر میں نے ادھر ادھر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میری طرف مسکرا رہے تھے ۳؎ (مسلم،بخاری) حضرت ابوہریرہ کی حدیث ما اعطیکم الخ حکام کی روزی کے باب میں ذکر کردی گئی۴؎
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،اصحاب صفہ سے ہیں،مزنی ہیں،مدینہ منور ہ میں رہے،خلافت فاروقی میں دس فقہاء بصرہ بھیجے گئے لوگوں کو علم دین سکھانے کے لیے ان میں آپ بھی تھے،وہاں ہی ۶۰ھ میں وفات پائی،خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ بصرہ میں ان سے بہتر کوئی نہ ہوا۔ ۲؎ غالبًا اس وقت آپ کو اس کی سخت ضرورت تھی اس لیے مجبوری میں یہ لفظ آپ کے منہ سے نکلا ورنہ حضرات صحابہ اپنی ضروریات پر دوسروں کو مقدم رکھتے تھے"وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ"۔ ۳؎ یعنی حضور انور نے مجھے اس ارادے سے اور اس قبضہ سے روکا نہیں بلکہ تبسم فرمایا جس سے اجازت معلوم ہوئی کیونکہ کسی عمل کو دیکھ کر منع نہ فرمانا اجازت کی علامت ہے،محدثین اسے سنت سکوتی کہتے ہیں۔ ۴؎ یعنی یہ حدیث مصابیح میں مکرر تھی کتاب القضا باب رزق ولاۃ میں بھی تھی اور یہاں بھی،میں نے صرف وہاں بیان کی یہاں سے اُڑا دی۔(مرقات)