۱؎ یعنی پہلے دس گھونٹ والی آیت نازل ہوئی پھر بہت عرصہ کے بعد دس گھونٹ والی آیت تلاوت و حکم میں پانچ گھونٹ والی آیت سے منسوخ ا ور یہ پانچ گھونٹ والی آیت اتنے عرصہ کے بعد منسوخ ہوئی تلاوتًا و حکمًا کہ حضور انور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی وفات پانے تک بعض دیہات اور دور دراز کے علاقہ والوں کو اس کے نسخ کی خبر نہ ہوئی اور وہ اس بے خبری میں بعد وفات بھی اس کی تلاوت کرتے رہے پھر خبر ہونے پر اس کی تلاوت بند کی۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ حضور کی وفات کے بعد بھی یہ آیت قرآن کریم میں تھی بعد میں صحابہ کرام نے نکال دی ورنہ اعتراض ہوگا کہ جناب علی و دیگر اہل بیت اطہار قران بگڑتا یا کم ہوتا ہوا دیکھ کر خاموش کیوں رہے انہوں نے قرآن بگڑنے کیوں دیا ؟ خیال رہے کہ یہ حدیث خبر واحد ہے اس سے قرآنی مطلق آیات کو مقید نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے لہذا یہ حدیث امام شافعی کی دلیل نہیں بن سکتی۔