۱؎ عقبہ ابن ابی معیط وہ ملعون ہے جس نے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پیٹھ مبارک پر بحالت سجدہ اونٹ کی نجاست ڈالی تھی اور جناب فاطمہ نے ہٹائی تھی۔نضر ابن حارث بھی حضور کا بہت سخت دشمن تھا،ان دونوں کے قتل کردینے میں کفر کی طاقت کا توڑ دینا تھا اس لیے قتل کیے گئے۔(اشعہ)
۲؎ ابوعزہ جمحی کفار کا شاعر تھا جو اسلام کے خلاف قصیدے لکھا اور پڑھا کرتا تھا اسے بغیر فدیہ لیے ہی چھوڑ دیا اس کے لیے چھوڑ دینا ہی مفید تھا۔حضور انور حکیم ہیں،حکیم بیماری اور بیمار کے احوال سے خوب خبردار ہوتا ہے۔یہ حدیث ان کی دلیل ہے جو احسان کرکے کفارکو چھوڑ دینا اب بھی جائز سمجھتے ہیں۔احناف کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے۔خیال رہے کہ قیدی کافر کو کوئی غازی خود قتل نہیں کرسکتا بلکہ امام کی رائے سے قتل کرے گا مشرکین عرب اور مرتدین کے لیے یا قتل ہے یا اسلام،نہ انہیں غلام بنایا جائے نہ ان سے جزیہ لیا جائے اور جو کافر قیدی مسلمان ہوجائے اسے قتل نہیں کرسکتے غلام بناسکتے ہیں اور جو کافر قید ہونے سے پہلے مسلمان ہوجائے اسے نہ قتل کیا جائے نہ قید بلکہ وہ آزاد ہوگا۔تفصیل اس جگہ مرقات میں ملاحظہ کرو۔