| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب عقبہ ابن ابی معیط کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ بولا بچوں کا کون ہے ۱؎ فرمایا آگ ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ صبیۃ ص کے کسرہ ب کے سکون سے،جمع ہے صبیٌ کے معنی چھوٹے بچے۔یعنی آپ مجھے تو قتل کیے دیتے ہیں میرے پیچھے میرے چھوٹے بچے کون پالے پرورش کرے گا۔ ۲؎ یعنی تیرے لیے آگ ہے اپنی فکرکر بچوں کی فکر کیوں کرتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ تیرے بچوں کو آگ پالے گی۔یہ فرمان اظہار غضب کے لیے ہے اس معنی کی بنا پر یہ غیبی خبر ہے کہ تیرے بچے بھی تیری طرح دوزخی ہیں وہ بھی تیری طرح کافر ہی مریں گے۔