روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے ۱؎ توحضرت زینب نے بھی ابوالعاص کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا ۲؎ اس مال میں وہ اپنا ہار بھیجا جو جناب خدیجہ کے پاس تھا جسے دے کر زینب کو ابولعاص کے ہاں بھیجا تھا۳؎ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ ہار دیکھا حضور کو اس پر بہت ہی رقت طاری ہوئی۳؎ اور فرمایا اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کا قیدی چھوڑ دو اور ان کی چیزیں انہیں واپس کردو۴؎ سب نے کہا ہاں ضرور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوالعاص سے عہد لیا کہ وہ جناب زینب کا راستہ خالی کر دیں۵؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے زید ابن حارثہ کو ا ور ایک انصاری کو بھیجا ۶؎ ان سے فرمادیا کہ تم دونوں بطن یا جج میں رہنا۸؎ تا آنکہ تم پر زینب گزریں تو انہیں اپنے ساتھ لے آنا (احمد،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے کہ۷۰کفار تو مسلمانوں کے ہاتھوں کے قتل ہوئے تھے اور ۷۰قیدی،ان قیدیوں کے متعلق حکم ہوا تھا کہ فدیہ میں مال دو اور آزاد ہوجاؤ،ان لوگوں نے مکہ معظمہ اپنے عزیزوں کو پیغام بھیجے وہاں سے ان کے عزیزوں نے مال بھیج کر انہیں آزاد کرایا۔ ۲؎ حضرت زینب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑی صاحبزادی ہیں جو ابوالعاص ابن ربیع ابن ربیع ابن عبدالعزی ابن عبدشمس ابن عبدمناف کے نکاح میں تھیں اور مکہ معظمہ میں رہتی تھیں،ابوالعاص بی بی خدیجہ کے بھانجے تھے،جنگ بدر میں کفار کے ساتھ مسلمانوں سے جنگ کرنے آئے تھے گرفتار ہوگئے حضرت زینب نے انہیں چھوڑانے کے لیے فدیہ کا مال بھیجا۔خیال رہے کہ اس وقت مؤمنہ عورت کا نکاح کافر مرد سے جائز تھا اس لیے حضرت زینب بنت رسول اللہ جناب ابوالعاص کے نکاح میں رہیں حالانکہ آپ مؤمنہ تھیں ابوالعاص کافر بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔اب مؤمنہ عورت نہ تو کافر سے نکاح کرسکتی ہے نہ اس کے نکاح میں رہ سکتی ہے۔ ۳؎ یعنی یہ ہار ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کا تھا جو جہیز میں آپ نے جناب زینب کو دیا تھا حضور کو یہ دیکھ کر حضرت خدیجہ یاد آگئیں۔ ۴؎ جناب خدیجہ کو یادکرکے ان کی یہ نشانی دیکھ کر اپنی صاحبزادی زینب کی بےکسی اور بے بسی کا خیال فرماکر آپ کو گریہ طاری ہوگیا حضور کو جناب خدیجہ سے بہت ہی محبت تھی،ایک دفعہ کسی بی بی کی آواز سنی جو حضرت خدیجہ کی سی تھی تو آپ رو پڑے رضی اللہ عنہا۔ ۵؎ یعنی اگر تم لوگوں کی رائے ہو تو ابوالعاص کو بغیر فدیہ بطور احسان چھوڑ دیا جائے حضور انور مالک ہیں جو چاہیں کریں مگر یہ رائے لینا ہم لوگوں کی تعلیم کے لیے ہے۔ ۶؎ یعنی ابوالعاص کو چھوڑ تو دیا مگر ان سے یہ عہد لیا کہ مکہ معظمہ پہنچ کر حضرت زینب کو ہجرت کرکے مدینہ پاک آجانے کی اجازت دے دیں بلکہ حدود دارالاسلام تک پہنچا جائیں،ابوالعاص کے دل میں ایمان تو اسی وقت آگیا تھا مگر اس کا ظہور دوسرے وقت ہوا۔ ۷؎ تاکہ جناب زینب کو لے آئیں اس وقت غیرمحرم کے ساتھ عورتوں کو سفر کرنا جائز تھا،چونکہ ابوالعاص اس وقت کافر تھے مدینہ منورہ نہ آسکتے تھے اور مسلمان مکہ معظمہ نہ جاسکتے تھے اس لیے یہ انتظام فرمایا گیا لہذا حدیث واضح ہے۔ ۸؎ بطن یا جج مکہ معظمہ سے خارج ایک نالہ ہے جو مقام تنعیم کے پاس مسجد حضرت عائشہ صدیقہ سے قریب ہے۔ ۹؎ چنانچہ ابوالعاص نے اپنا وعدہ پورا کیا کہ مکہ معظمہ پہنچ کر پہلا کام یہ ہی کیا کہ حضرت زینب کو وہاں پہنچادیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ابوالعاص شام کے تجارتی سفر سے واپس ہوتے ہوئے مدینہ منورہ کے قریب سے گزرے مسلمانوں نے چاہا کہ ان کا مال چھین کر انہیں گرفتار کرلیں،حضرت زینب کو پتہ چلا تو بولیں میں انہیں امان دیتی ہوں،یہ سن کر صحابہ کرام بغیر ہتھیار ابوالعاص سے ملے انہیں تبلیغ اسلام کی،انہوں نے جواب دیا کہ ابھی میرے پاس کفار مکہ کی کچھ امانات ہیں میں وہ امانات دے کر مسلمان ہوں گا۔چنانچہ آپ مکہ مکرمہ گئے تمام کی امانتیں واپس کیں پھر مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آگئے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پرانے نکاح پر نیا نکاح پڑھا کہ حضرت زینب کو ان کے حوالہ فرمادیا۔حضور کو ابوالعاص سے بہت ہی محبت تھی،حضرت ابوالعاص خلافت صدیقی میں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ۔(اشعہ)اﷲ تعالٰی ان کے طفیل ہم کو ایمان پر استقامت،حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔