Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
862 - 1040
حدیث نمبر862
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ ثقیف بنی عقیل کے حلیف تھے ۱؎ تو ثقیف نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے دو کو قید کرلیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ نے بنی عقیل میں سے ایک شخص کو قید کرلیا ۲؎  تو اسے باندھ دیا پھر اسے مقام حرہ میں ڈال دیا ۳؎  پھر اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم گزرے ۴؎  اس نے حضور کو پکارا اے محمد اے محمد میں کس جرم میں پکڑا گیا،فرمایا اپنی قوم کے حلیف ثقیف کے جرم میں ۵؎ پھر حضور نے اسے یونہی چھوڑا اور چل دیئے اس نے پھر کہا یامحمد اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے رحم فرمایا لوٹ آئے ۶؎  فرمایا تیرا کیا حال ہے وہ بولا میں مسلمان ہوں۷؎ فرمایا اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا ۸؎ تو پوری کامیابی پاتا ۹؎  راوی فرماتے ہیں پھر اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دو شخصوں کے فدیہ میں دے دیا جنہیں ثقیف نے گرفتار کرلیا تھا۱۰؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اسلام سے پہلے بنی ثقیف جو ہوازن کا ایک خاندان ہے بنی عقیل کے حلیف تھے۔حلیف وہ کہلاتا تھا جس کا کسی سے معاہدہ ہوجائے کہ ہم دونوں ہر نیک و بد،خیروشر میں ایک دوسرے کے ساتھی رہیں گے۔اس معاہدہ کو حلف کہتے تھے،معاہدہ کرنے والوں کو حلیف۔اسلام نے گزشتہ معاہدوں کو کچھ ترمیم کے ساتھ باقی رکھا کہ اچھی بات پر معاہدہ ٹھیک ہے بری بات پر معاہدہ غلط۔آئندہ کے لیے حلیف سے منع فرمادیا کہ حضور نے ارشاد فرمایا لا حلف فی الاسلام کیونکہ اسلام کا معاہدہ ہی کافی ہے۔

۲؎ اس زمانہ کے قاعدہ کے مطابق ایک حلیف دوسرے حلیف کے جرم میں پکڑا جاتا تھا،ثقیف نے مسلمان پکڑ لیے تو اس کے عوض ثقیف کے حلیف بنی عقیل کا ایک آدمی پکڑ لیا تاکہ بنی ثقیف اپنے حلیف کو چھوڑنے کے لیے ہمارے مسلمانوں کو چھوڑ دیں۔

۳؎ حرہ بیرون مدینہ میدان کا نام ہے جو پتھریلا علاقہ ہے وہاں سایہ وغیرہ نہیں سیاہ پتھر ہیں وہاں ڈالا تاکہ یہ قیدی اپنی تکلیف اپنی قوم کو پہنچائے،وہ لوگ جلد از جلد اسے چھوڑانے کے لیے مسلمان قیدیوں کو آزاد کردیں۔اس زمانہ میں بھی منافقین مدینہ کفار کے جاسوس تھے جو یہاں کے حالات کفار کو بتاتے رہتے تھے۔

۴؎ تاکہ اس کا دکھ درد دیکھیں اور سنیں اس کے کھانا پانی کا انتظام فرمادیں اس لیے خود بہ نفس نفیس شہر مدینہ سے حرہ تشریف لے گئے۔

۵؎ خیال رہے کہ قبیلہ بنی ثقیف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے درمیان معاہدہ ہوچکا تھا کہ ہم دونوں فریق صلح سے رہیں گے،ثقیف نے حضور سے بدعہدی کی،بنی عقیل کا فرض تھا کہ وہ اپنے ان حلیفوں کو اس بدعہدی سے منع کرتے مگر وہ خاموش رہے یہ ان کی طرف سے گویا بدعہدی ہوئی یعنی تو بنی عقیل کا ایک فرد ہے تو بنی ثقیف کا معاہدہ حلیف ہے تیرے حلیفوں نے ہم سے بدعہدی کی تو ان کے جرم میں گرفتار ہوا۔

۶؎ ایسے قیدیوں پر کون رحم کرتا ہے مگر حضور رحمۃ اللعالمین ہیں کہ ایسوں پر بھی رحم فرماتے ہیں ایسوں کی بھی سنتے ہیں۔شعر

ایک تم ہو کہ بخش دیتے ہو		کون ان جرموں پر سزا نہ کرے

۷؎ یا تو پہلے سے ہی مسلمان ہوں یا اب حضور کے دیدار کی برکت سے مسلمان ہوگیا ہوں۔(مرقات)مگر دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ ظاہر ہے۔

۸؎  یعنی قید ہونے گرفتار کیے جانے سے پہلے کہہ دیتا تو پکڑا نہ جاتا۔خیال رہے کہ اگر کافری قیدی کہے کہ میں تو گرفتاری سے پہلے ہی مسلمان تھا تو اس کی بات نہ مانی جائے گی جب تک اپنے دعویٰ پر شرعی گواہی قائم نہ کرے اور اگر قید ہونے کے بعد مسلمان ہوجائے تو اسے قتل نہ کیا جائے گا مگر غلام بنالیا جائے۔اس وقت کا اسلام قتل سے بچالے گا غلامیت سے نہ بچاسکے گا اور اگر قیدی قید ہوچکنے کے بعد جزیہ قبول کرلے اس کے قتل کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے۔(مرقات)

۹؎ اس طرح کہ دنیا میں تو قیدوغلامیت کی ذلت سے بچ جاتا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے،اب اس وقت مسلمان ہونے سے تو آگ سے بچ گیا مگر غلامیت کی قید سے نہ بچ سکا۔یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا یہ اسلام قبول نہ کیا کیونکہ حضورکو اس کے منافق ہونے کا پتہ تھا کبھی حضور حقیقت پرحکم جاری فرماتے تھے۔مدعی اسلام کے قتل کا حکم دیا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ کافر ہوکر مرا۔ (اشعہ)

۱۰؎ یعنی کچھ عرصہ کے بعد حضور انور نے اسے کفار کے حوالہ کردیا اور اس کے عوض اپنے مسلمان قیدی کفار سے چھڑا لیے۔اس سے معلوم ہوا کہ جوشخص قیدی ہوچکنے کے بعد مسلمان ہو اس کو قدیمی مسلمان کو چھوڑانے کے لیے فدیہ دیا جاسکتا ہے۔ہدایہ میں ہے کہ ایسے قیدی کو فدیہ میں دینا جائز نہیں جو بحالت قید مسلمان ہوچکا ہو۔اگر ہمارا اور کفار کا معاہدہ اس قسم کا ہوچکا ہو کہ بعد صلح فریقین اپنے قیدیوں کو چھوڑدیں تو ایسے مسلمان قیدیوں کو چھوڑنا پڑے گا۔(مرقات)مگر ایسے عورتوں بچوں کو فدیہ میں بھی نہ دیا جائے گا جو قید ہوکر مسلمان ہوگئے ہوں۔اس کی پوری بحث فتح القدیر میں اور اس جگہ مرقات میں دیکھو۔
Flag Counter