Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
861 - 1040
حدیث نمبر861
روایت ہے مروان ۱؎ اور حضرت مسور ابن مخرمہ سے ۲؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا جب کہ حضور کے پاس ہوازن کا وفد مسلمان ہوکر آیا۳؎  تو انہوں نے حضور سے سوال کیا انہیں ان کے مال اور قیدی واپس کردیں۴؎ تو فرمایا کہ تم لوگ ان دو میں سے ایک کو اختیارکرلو یا قیدی یا مال تو وہ بولے کہ ہم اپنے قیدی اختیارکرتے ہیں۵؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قیام فرمایا اﷲ کی وہ تعریف فرمائی جو اس کی شان کے لائق ہے پھر فرمایا کہ بعد حمد تمہارے بھائی توبہ کرتے ہوئے آئے ہیں ۶؎ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں ۷؎ تو تم میں سے جو پسندکرے کہ بخوشی یہ کرے تو وہ کرے ۸؎  اور تم میں سے جو اپنے حصہ پر رہنا چاہے حتی کہ اس میں سے عطا فرمائیں جو اﷲ ہمیں غنیمت دے تو وہ یوں کرے ۹؎ تب لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم نے بخوشی قبول کرلیا ۱۰؎  تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم کو تم میں سے اجازت دینے والوں کا پتہ نہ چلا ان میں سے جنہوں نے اجازت نہ دی ۱۱؎ تو تم واپس جاؤ حتی کہ تمہارے سردار تمہارا ارادہ ہم تک پہنچادیں۱۲؎ تب لوگ لوٹ گئے پھر ان سے ان کے سردار نے گفتگو کی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے خبر دی کہ ان سب نے خوشدلی سے اجازت دے دی۱۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ ان کا نام مروان ابن حکم ابن ابوالعاص ابن امیہ ابن عبدشمس ابن عبدمناف ہے،     ۲ھ؁  یا خندق کے سال پیدائش ہے حضور کی زیارت نہ کی کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے باپ حکم کو ایک جرم کی بنا پر مدینہ سے نکال کر طائف بھیج دیا،مروان اس کے ساتھ تھا عہد عثمانی میں حکم کو مدینہ منورہ آنے کی اجازت ملی تب یہ ا پنے باپ کے ساتھ مدینہ منورہ آیا،اس کی کنیت عبدالملک ہے،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،معاویہ ابن یزید کے بعدتخت سلطنت پر قابض ہوا،  ۶۵ھ؁ پینسٹھ میں دمشق میں وفات پائی،تابعی ہیں، حضرت عثمان و علی سے احادیث لیں اور اس سے حضرت عروہ ابن زبیر اور علی ابن حسین یعنی امام زین العابدین نے احادیث روایت کیں۔خیال رہے کہ حضرت عثمان کا حکم اور مروان کو مدینہ منورہ واپس بلانا سچی توبہ کی بنا پر تھا اور درست تھا اس لیے حضرت علی نے اپنے دور خلافت میں اس کو مدینہ منورہ سے نہ نکالا بلکہ حضرت عثمان کے واپس بلانے کو قائم رکھا،اگر حضرت عثمان پر اعتراض کیا جاوے تو جناب علی مرتضٰی پر بھی اعتراض ہوگا۔

۲؎ آپ زہری قرشی ہیں،حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بھانجہ ہیں،ہجرت کے دو سال بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،حضور کی وفات کے وقت آپ آٹھ سال کے تھے،قتل عثمان تک مدینہ منورہ میں رہے،پھر مکہ معظمہ منتقل ہوگئے،یزید کی بیعت نہ کی، یزید نے مکہ معظمہ کا محاصرہ کراکے منجنیق سے وہاں پتھر برسائے،آپ حطیم شریف میں نفل پڑھ رہے تھے کہ عین نماز میں ایک پتھر آپ کے لگا شہید ہوگئے،عین حطیم کعبہ میں یہ واقعہ شروع ربیع الاول      ۶۴؁  چونسٹھ ہجری میں ہوا،آپ سے بہت سے لوگوں نے احادیث روایت کیں۔

۳؎ فتح مکہ کے بعد غزوہ حنین ہوا یہ غزوہ ا سی قبیلہ ہوازن پر ہوا تھا،اس میں بہت قیدی اور بہت مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا،پھر یہ ہی لوگ مسلمان ہوکر مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے درخواست کی سرکار نے ان پررحم خسروانہ فرمایا۔

۴؎ یعنی اس قبیلہ نے درخواست پیش کی کہ ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں اور ہمارا مال جو غنیمت بن چکا ہے ہم کو واپس کردیا جائے قیدی سات ہزار تھے مال کا تو حساب ہی نہ تھا۔(مرقات)

۵؎ جب قبیلہ ہوازن کو یقین ہوگیا کہ حضور انور دونوں چیزیں واپس نہ فرمائیں گے تو بولے کہ اچھا ہمارے قیدی چھوڑ دیئے جائیں ہم مال نہیں چاہتے کیونکہ ان کے غلام بننے میں ہماری ذلت ہے۔

۶؎ یہ ہے رب تعالٰی کی بے نیازی،کہ جو کل تک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے وہ آج مسلمان ہوکر بھائی بن گئے اور یہ ہے حضور کی کرم نوازی کہ دشمن کو گلے لگالیتے ہیں۔

۷؎ یعنی سارے ہوازنی قیدی بغیر فدیہ لیے ہوئے چھوڑ دوں۔

۸؎ ہوازن کے قیدی مسلمان غازیوں میں تقسیم کر دیئے گئے تھے۔اب حضور انور کی رائے یہ ہوئی کہ وہ تمام قیدی آنے والے ہوازن کو واپس کردیئے جائیں بغیر فدیہ چھوڑ دیئے جائیں لہذا ان غازیوں سے فرمایا کہ ہر شخص اپنے حصہ کا قیدی واپس کردے جو معاوضہ واپس کرنا چاہے بطیب خاطرتو وہ ایسا ہی کرے۔

۹؎ یعنی جو غازی بلا معاوضہ واپس نہ کرنا چاہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اب جس جہاد میں بھی کفار قیدی ہاتھ آئیں گے اسے اس کے عوض غلام دیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ قیدی واپس کرنے کا حکم سرکاری تھا جس پر عمل کرنا ہر غازی پر واجب تھا اور معاوضہ لینے نہ لینے کا اختیار تھا۔خیال رہے کہ یفئ بنا ہے فئی سے،فئ وہ مال ہے جو کفار سے بغیر جنگ حاصل کیا جائے،جزیہ و خراج بھی اس میں داخل ہے مگر یہاں فئ سے مراد غنیمت ہے۔(مرقات و اشعہ)غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے بحالت جنگ لڑ کر حاصل کیا جائے۔

۱۰؎ یعنی تمام صحابہ نے یک زبان ہوکر عرض کیا کہ ہم بغیر معاوضہ بخوشی اپنا اپنا قیدی واپس کرتے ہیں معاوضہ کے طلبگار نہیں۔

۱۱؎ یعنی ہم تم میں سے ہر شخص سے علیٰحدہ علیٰحدہ نہیں پوچھ سکتے جماعتی حیثیت سے یہ سوال و جواب ہوا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص معاوضہ ہی چاہتا ہو مگر اب مجلس میں خاموش رہا ہو یا بولا ہو تو ان آوازوں میں اس کی آواز دب گئی ہو اس لیے یہ جماعتی اجازت کافی نہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہر شخص کے دل کے ارادے سے خبردار ہیں مگر تعلیم امت کے لیے یہ احتیاط فرما رہے ہیں تاکہ بادشاہ یا حاکم یا اور کوئی کسی کا مملوک مال بغیر اس کی صریحی اجازت کے کبھی نہ لے ورنہ حضور تو مسلمانوں کی جان و مال کے مالک ہیں،ہم سب حضور کے لونڈی غلام ہیں ہمارا مال جسے چاہیں بغیر پوچھے دے دیں۔(دیکھو ہماری کتاب سلطنت مصطفی) یہاں تعلیم مقصود ہے۔

۱۲؎ عرفاء جمع ہے عریف کی،عریف کے معنی ہیں رئیس نقیب سردار یعنی ہر قبیلہ کا ہر شخص اپنے سردار سے اپنا ارادہ بیان کرے وہ سردار ہم تک پیغام پہنچادے۔

۱۳؎ یعنی ایسا ہی ہوا کہ ہر ہر قبیلہ کا سردار اپنے قبیلہ کے ہر غازی صحابی سے ملا،ہر ایک کا ارادہ علیٰحدہ علیٰحدہ معلوم کیا پھر حضور انور کی خدمت میں پیش کیا۔
Flag Counter