Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
860 - 1040
حدیث نمبر860
روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم سے انس ابن مالک نے بروایت ابو طلحہ ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کے دن چوبیس سرداران قریش کے متعلق حکم دیا ۲؎  تو وہ بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے اور پلیدکنویں میں۳؎  ڈال دیئے گئے اور جب حضورکسی قوم پر غالب آتے تھے تو میدانِ جنگ میں تین شب قیام فرماتے تھے۴؎ چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن ہوا تو اپنی سواری کے متعلق حکم دیا تو اس پر پالان باندھ دیا گیا ۵؎ پھر حضور چلے اور حضور کے صحابہ پیچھے پیچھے گئے حتی کہ کنوئیں کے کنارے پر کھڑے ہوئے ۶؎ تو انہیں ان کے اور ان کے باپ داداؤں کے نام سے پکارنے لگے کہ اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں ۷؎ کیا اب تم کو یہ پسند ہے کہ تم نے اﷲ رسول کی اطاعت کی ہوتی ۸؎  ہم نے تو وہ حق پایا جو ہم سے ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ۹؎  تو تم نے بھی وہ حق پالیا جو تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا۱۰؎ تو حضرت عمر نے عرض کیا یارسول اﷲ حضور ان جسموں سے کلام فرماتے ہیں جن میں جان نہیں ۱۱؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے میرے فرمان کو تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے ۱۲؎ اور ایک روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ جواب نہیں دیتے۱۳؎(مسلم،بخاری)بخاری نے یہ زیادہ کیا کہ قتادہ نے فرمایا کہ اﷲ نے انہیں زندہ کیا حتی کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا قول سنادیا سرزنش،ذلت، بدلہ، حسرت،ندامت کے لیے۱۴؎
شرح
۱؎ آپ قتادہ ابن وعامہ ہیں،کنیت ابو الخطاب ہے، نابینا تھے،حضرت انس اور عبد اللہ ابن حسن صدیق سے  ملاقات ہے،، تابعی ہیں، ۱۰۷ھ؁  ایک سو سات ہجری میں وفات ہوئی۔(اکمال)

۲؎  غزوہ بدر میں ستر۷۰ کفار ہلاک کردیئے تھے اور ستر قیدی۔ہلاک شدگان میں چوبیس بڑے چوٹی کے سردار تھے جن کی نعشیں خصوصیت سے یہاں پھینکوائی گئی تھیں۔صنادید جمع ہے صندید کی،صندید کے معنی ہیں رئیس سردار،بہادر،اشرف عظیم یہاں تمام معنی بن سکتے ہیں۔

۳؎  طوی ط کے فتحہ اور واؤ کے کسرہ ی کے شد سے بمعنی من والا کنواں جس کا کنارہ گول دیوار سے گھیر دیا گیا ہو تاکہ اس میں کوئی گر نہ جائے یا تو پہلے ہی سے وہ کنواں گندا تھا کہ وہاں نجاسات ڈالی جاتی تھیں یا آج ان خبیثوں کی نعشیں ڈالنے کی وجہ سے گندا ہوگیا۔بعض روایات میں ہے کہ وہ قلیب یعنی کنوئیں کے جھیرے میں ڈالے گئے تھے،ہوسکتا ہے کہ بعض نعشیں کنوئیں میں ڈالی گئی ہوں اور بعض جھیرے میں۔

۴؎ یعنی طریقہ مبارکہ یہ تھا کہ فتح فرمانے کے بعد فورًا واپس نہ ہوجاتے تھے بلکہ تین دن اسی میدان میں قیام فرماتے،پھر وہاں سے واپس ہوتے۔عرصہ وہ جنگل جس میں کوئی عمارت نہ ہو۔

۵؎  یعنی واپسی کے لیے سواریاں تیار کی گئیں ان پر سامان سفر رکھ دیا گیا۔

۶؎  جس کنوئیں میں ان سرداروں کی نعشیں پڑی تھیں اس کنوئیں کے کنارے پر قیام فرمایا اب وہ کنواں ناپید ہوگیا ہے۔میں کئی بار بدر شریف میں حاضر ہوا،تمام تاریخی مقامات کی زیارات کیں مگر یہ کنواں نظر نہ آیا۔ معلوم ہوا کہ وہ گم ہوکر رہ گیا ہے۔

۷؎ یعنی ابوجہل امیہ ابن خلف وغیرہم میں سے ہر ایک کو الگ الگ نام لے کر پکارا اور کلام سب سے مجموعۃً کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ مردوں کو پکارنا جائز ہے اگرچہ مردے کفار ہی ہوں اور ان سے کلام کرنا درست ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تو ذبح کیے ہوئے جانوروں کوپکارا"ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا"۔ زیارات قبور کے موقعہ پر مردوں کو پکارکر سلام کرنا ان سے کلام کرنا سنت ہے۔

۸؎ سوال تقریری ہے۔یعنی اب تو یقینًا تم کو یہ آرزو ہے کہ کاش ہم نے اسلام قبول کرلیا ہوتا اور اﷲ رسول کی اطاعت کی ہوتی جو واقعہ تھا حضور نے وہی بیان فرمادیا۔خیال رہے کہ بعد موت روح اپنے مقام پر پہنچادی جاتی ہے مؤمن کی اچھے مقام پر،کافر کی روح عذاب کے مقام پر مگر روح جہاں بھی ہو اسے قبر اور جسم سے تعلق ضرور رہتا ہے جیسے سونے کی حالت میں روح سیرانی عالم کی سیر کرتی ہے مگر سونے والے کے جسم سے تعلق رکھتی ہے کہ جہاں جسم کو ہاتھ لگا یا اسے آواز دی روح کو خبر ہوگئی اس لیے قبر پر جاکر اسلام و کلام کیا جاتا ہے۔اس کی تحقیق ہم نے اپنی تفسیرنعیمی پارہ دوم بل احیاء کی تفسیر میں بھی کی ہے اور اسی مرآت باب الجمعہ مسئلہ حیات النبی میں بھی کی ہے۔حیات اموات اور حیات شہداء حیات النبی کا فرق وہاں مطالعہ کرو۔

۹؎ اس وعدے سے مراد بعض وہ ربانی وعدے ہیں جن کا ظہور دنیا میں ہوچکا ہے۔بدر میں تھوڑے مسلمانوں کا بہت طاقتور مسلح کفار پر غلبہ،فرشتوں کا مسلمانوں کی مدد کے لیے اترنا وغیرہ۔وہ وعدے مراد نہیں جن کا ظہور بعد موت یا بعد قیامت ہوگا کہ وہ وعدے تو پورے ہوں گے ابھی پورے ہوئے نہیں۔

۱۰؎ یہاں وعدے سے مراد وہ وعیدیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی معرفت کفار تک پہنچیں خواہ دنیاوی ہوں یا برزخی جیسے بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھانا اور عذاب قبر وغیرہ،اخروی وعیدیں جن کا ظہور قیامت میں یا بعد قیامت ہوگا مراد نہیں کہ وہ ابھی پوری نہیں ہوئیں آئندہ ہوں گی لہذا حدیث بالکل صاف ہے کوئی اعتراض نہیں،اس فرمان عالی کا مقصد ان کفار کو سرزنش فرمانا ہے۔

۱۱؎ یعنی یہ مردے نہ تو آپ کا فرمان سن سکتے ہیں نہ جواب دے سکتے ہیں ایسوں سے کلام فرمانا عبث ہے اور عبث کام شان نبوت کے خلاف ہے۔

۱۲؎ اسمع اسم تفضیل ہے جو زیادتی سننے پر دلالت کرتی ہے،جب تفضیل کی نفی ہوئی تو زیادتی کی نفی ہوئی یعنی تم زندے ان مردوں سے زیادہ سننے والے نہیں اورتمہارے برابر بلکہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں کہ تم صرف سن رہے ہو مگر وہ میرا کلام سن بھی رہے ہیں اور عذاب قبر دیکھ بھی رہے ہیں۔

۱۳؎ ایسا جواب جو عوام سن سکیں ورنہ میت کا سننا اس کا جواب دینا احادیث سے ثابت ہے مگر وہ جواب عام لوگ نہیں سنتے،مقبولینِ بارگاہ خصوصًا کشف قبور والے حضرات میت سے سلام و کلام اورگفتگو سب کچھ کرلیتے ہیں۔

۱۴؎ یعنی مقتولین بدر کفار  کا حضور بدر ہر وقت زندوں کا کلام نہیں سنتے۔یہ قتادہ کا قول ہے۔
مسئلہ سماع موتی
خیال رہے کہ حضرات انبیاءکرام اور اولیاءاﷲ کے بعد وفات سننے دیکھنے تصرف کرنے کے متعلق تمام اسلامی فرقے اسی پرمتفق ہیں کہ وہ حضرات بعد وفات سنتے دیکھتے عالم میں تصرف کرتے ہیں کیونکہ حضرات انبیاء دنیاوی حقیقی حیات سے زندہ ہیں اور حضرات اولیاء بہ حیات اخروی معنوی زندہ ہیں۔(اشعۃ اللمعات)عام مردوں کے سننے کے متعلق علماء اسلام کی تین جماعتیں ہیں:ایک جماعت کہتی ہے کہ عام مردے کبھی نہیں سنتے ۔حضرت عائشہ صدیقہ بھی پہلے یہ  ہی فرماتی تھیں مگر بعد میں آپ نے اس سے رجوع کرلیا  اور سماع موتی کی قائل ہوں گئیں۔ (اشعۃ اللمعات)دوسری جماعت کہتی ہیں کہ  مردے عام حالات میں تو نہیں سنتے مگر خاص وقتوں میں سنتے ہیں جیسے بعد دفن،کہ دفن کرنے والوں کے جوتوں کی آہٹ سنتے ہیں یا حضور کے اس فرمان کے وقت مقتولین میں زندگی پیدا کی گئی جس سے انہوں نے حضور کا یہ فرمان سن لیا۔یہ قول حضرت قتادہ کا ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا۔تیسری جماعت کا قول ہے کہ عام مردے بھی ہر وقت سنتے،زائرین کو دیکھتے،پہنچانتے ہیں۔

منکرین سماع کے دلائل حسب ذیل ہیں:

(۱)قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ"اے محبوب تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو پکار سنا سکو(۲)قرآن کریم فرماتاہے:"وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسْمِعٍ مَّنۡ فِی الْقُبُوۡرِ"جو قبروں میں ہیں آپ انہیں نہیں سنا سکتے(۳)حضرت عائشہ صدیقہ کا فرمان کہ مردے نہیں سنتے(۴)فقہاء فرماتے ہیں کہ جوکسی سے نہ بولنے کی قسم کھالے پھر اس سے مرے بعد کلام کرے تو اس کی قسم ٹوٹے گی نہیں کیونکہ میت کلام سنتی سمجھتی نہیں۔منکرین سماع موتی کے کل یہ چار دلائل ہیں۔

قائلین سماع موتی کے دلائل حسب ذیل ہیں:

(۱)قرآن میں ہے حضرت صالح علیہ السلام جب عذاب یافتہ قوم کی نعشوں پرگزرے تو آپ نے ان سے خطاب کرکے فرمایا:"یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیۡنَ"۔(۲)قرآن کریم میں ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام اپنی کافر عذاب یافتہ قوم کی نعشوں پرگزرے تو "فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیۡنَ"۔یعنی اے قوم میں نے تم کو احکام الٰہی پہنچائے تمہاری بڑی خیر خواہی کی تو اب میں کافر قوم پر کیسے غم کروں۔(۳)قرآن کریم فرماتاہے:"وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعْبَدُوۡنَ"اے محبوب اپنے سے پہلے رسولوں کو دریافت فرمالو ہم نے اﷲ کے سوا کوئی معبود بنائے جن کی پوجا کی جائے(۴)یہ ہی حدیث جو مسلم،بخاری نے روایت کی جس سے معلوم ہوا کہ کافر مردے بھی سنتے ہیں۔(۵)مسلم شریف میں ہے کہ بعد دفن جب لوگ واپس ہوتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے(۶)حضور صلی اللہ علیہ و سلم جب مدینہ منورہ کے قبرستان میں تشریف لے جاتے تو ان سے خطاب کرکے سلام بھی کہتے تھے اور کلام بھی کرتے تھے کہ تم ہمارے سلف ہو ہم تمہارے خلف(۷)حضرت عائشہ صدیقہ جب مکہ معظمہ میں اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر پر پہنچیں تو سلام کیا اور فرمایا کہ اے عبدالرحمن اگر میں تمہارے انتقال کے وقت موجود ہوتی تو تم کو وہاں ہی دفن کرتی جہاں تمہاری وفات ہوئی تھی(۸)حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ جب تک میرے حجرے میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور ابوبکرصدیق دفن رہے تب تک میں بے حجاب اندر چلی جاتی تھی جب سے حضرت عمر دفن ہوئے ہیں تب سے میں حجاب کے ساتھ اندر جاتی ہوں حضرت عمر سے شرم و حیاء کی وجہ سے(۹)فقہاء فرماتے ہیں کہ قبرستان میں جائے تو اہل قبور کو سلام کرے،عام مؤمنوں کو یوں کہے السلام علیکم دارقوم من المسلمین وانا ان شاء اﷲ لاحقون نسأل اﷲ لناو لکم العافیۃ۔شہداءکو یوں سلام کرے "سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ"۔اولیاء اﷲ کو یوں سلام کرے"سلامٌ علیکم بما کسبتم فنعم عقبی الدار"اور ظاہر ہے کہ نہ سننے والوں کو سلام کرنا ممنوع ہے۔دیکھو سوتے ہوئے کہ سلام نہ کرو کہ وہ سنتا نہیں،نیز جو سلام کا جواب نہ دے سکتا ہو اسے سلام کرنا ممنوع ہے،جو نماز پڑھ رہا ہے،استنجاء کررہا ہے اسے سلام نہ کرو کہ اگرچہ وہ سلام سنتا تو ہے مگر جواب دے نہیں سکتا۔اگر قبر والے مردے سلام سنتے نہ ہوتے یا جواب نہ دے سکتے تو انہیں سلام کرنا ممنوع ہوتا۔معلوم ہوا کہ وہ سنتے بھی ہیں جواب بھی دیتے ہیں۔

منکرین سماع موتی کے چاروں دلائل نہایت ہی کمزور ہیں،ان کے جوابات حسب ذیل ہیں:

جواب(۱)آیت کریمہ"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"میں مردے اور بہرے سے مراد دل کے بہرے کفار ہیں جوحضور کی تبلیغ کو مفید طور پرنہیں سنتے کیونکہ اس جگہ قرآن کریم نے فرمایا:"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"آپ ان ہی کو سناسکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔دیکھو یہاں موت کے مقابل میں ایمان کا ذکر فرمایا۔معلوم ہوا کہ موت سے مراد کفر ہے قرآن کریم نے خود اس کی تفسیر کردی۔

جواب(۲)آیت"مَاۤ اَنۡتَ بِمُسْمِعٍ مَّنۡ فِی الْقُبُوۡرِ"میں بھی قبر والوں سے مراد کفار ہیں جن کے مردہ دل ان کے سینوں میں بے حس دفن ہیں۔قرآن کریم نے آنکھ،کان،ناک والے کفار کو بہرا اندھا فرمایا ہے،فرماتاہے:"صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوۡنَ"ان قرآنی آیات سے واضح ہے کہ اگر بفرض محال مان لیا جائے کہ ان دونوں آیتوں میں مردے ہی مراد ہیں تو بھی ان میں مردوں کے سننے کی نفی نہیں بلکہ حضور کے سنانے کی نفی ہے یعنی مردوں کو آپ نہیں سنا سکتے ہم سنا سکتے ہیں یا مفید سنانا ہے یعنی مردے آپ کا کلام سن کر فائدہ نہیں اٹھا سکتے کہ فائدہ زندگی میں اٹھایا جاسکتا تھا۔

جواب(۳)ہم بحوالہ اشعۃ اللمعات عرض کرچکے کہ حضر ت عائشہ صدیقہ نے اس سے رجوع فرمالیا،وہ اوّلًا سماع موتی کا انکار فرماتی تھیں پھر قائل ہوگئیں،خود انہوں نے حضرت عبدالرحمن کی قبر پر جاکر ان سے خطاب فرمایا،حضرت عمر فاروق کے دفن ہوجانے پر روضہ انور میں با پردہ جانے کا التزام فرمایاحضرت عمر سے شرم و حیا کی وجہ سے۔

جواب(۴)قسم میں عرف کا اعتبار ہوتا ہے،دیکھو مچھلی کو قرآن کریم میں گوشت فرمایا:"لَحْمًا طَرِیًّا"مگر فقہاء قسم کے موقعہ پر اسے گوشت نہیں مانتے،جوشخص گوشت نہ کھانے کی قسم کھائے وہ مچھلی کھانے سے حانث نہیں ہوتا،کیوں،اس لیے کہ اسے عرف میں گوشت نہیں کہتے لہذا جوعرف میں بولنے سے مراد ہوتا ہے ظاہری سوال و جواب والا بولنا،مردے سے بولنے کو عرفًا بولنا نہیں کہتے اس لیے مردے سے کلام کرنے والا حانث نہیں ہوتا بہرحال یہ دلائل نہایت کمزور ہیں۔

دوسری جماعت کے پاس کوئی دلیل نہیں صرف حضرت قتادہ کی رائے ہے جو قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور حدیث شریف کے بھی۔مردے میں بعض وقت جان پڑجانا پھر نکل جانا یہ پڑتے نکلتے رہنا قتادہ کی رائے ہے کسی آیت یا حدیث میں اس کا ذکر نہیں لہذا اس کے جواب دینے کی ضرورت ہی نہیں۔بہرحال حق یہ ہے کہ مردے زندوں کا کلام سنتے انہیں جانتے پہچانتے ہیں۔

قبروں سے فیض لینا:اس کی مکمل بحث ہم مرآت جلد دوم باب زیارت قبو رمیں کرچکے ہیں یہاں اتنا سمجھ لو کہ بعض کی یہ گفتگو سن لینا حضور کی خصوصیات سے ہے جو رب تعالٰی نے ایک خاص حکمت سے وہاں ظاہر فرمائی،ورنہ عام مردے بلکہ خود مقتولین خشک علماء اس کے منکر ہوئے ہیں مگر صاحب کشف اولیاءوعلماء کا عقیدہ ہے کہ بزرگان دین کی قبور سے مدد لینا،فیض حاصل کرنا بالکل درست ہے،انکے فیوض سے مایوس ہونا کفارکر طریقہ ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَئِسُوۡا مِنَ الْاٰخِرَۃِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوۡرِ"یہ لوگ آخرت سے ایسے مایوس ہیں جیسے کفار قبر والوں سے مایوس ہیں۔معلوم ہوا کہ اہل قبور کے فیوض سے مایوس طریقۂ کفار ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ نے ایک بار بارش کے لیے حضور کے روضہ انور کی چھت کھلوادی فورًا بارش آئی۔(مشکوۃ شریف باب الکرامات)رب العالمین نے بنی اسرائیل کو حکم دیا "ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ"بیت المقدس کے دروازہ میں سجدہ کرتے جاؤ اور کہو کہ مولیٰ معافی دے دے۔وہاں کیوں بھیجا مدفون انبیاء کرام کی قبروں سے فیض حاصل کرنے کے لیے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور کی معراج کی رات پچاس نمازوں کی پانچ کرادیں،یہ قبور والوں کی مدد ہی تو ہے۔ اس مسئلہ کی تحقیق مرآت جلد دوم باب زیارۃ قبور میں دیکھو اور حیات انبیاء کی تحقیق باب الجمعۃ میں کی جاچکی ہے۔
Flag Counter