| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ مکہ والوں میں سے اسّی آدمی تنعیم پہاڑ سے ہتھیار بند ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر کودے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی غفلت اور حضور کے صحابہ کی غفلت کے ارادے میں تھے ۲؎ کہ انہیں زندہ گرفتار کرلیا ۳؎ پھر انہیں زندہ چھوڑ دیا اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں آزاد کردیا ۴؎ تب اﷲ تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ وہ رب وہ ہے جس نے مکہ کے درمیان ان کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ واقعہ سال حدیبیہ کا ہے،تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر بیرون حرم جگہ کا نام ہے،یہاں سے عمرہ کا احرام باندھنے لوگ مکہ معظمہ سے آتے ہیں،قریب ترین یہ ہی جگہ ہے،یہاں ہی مسجد حضرت عائشہ صدیقہ ہے،فقیر نے زیارت کی ہے۔اسے تنعیم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی داہنی جانب نعیم پہاڑ ہے اور بائیں طرف ناعم پہاڑ واقع ہے،اس جنگل کا نام نعمان ہے،دیکھو مرقات۔یہ اسّی آدمی ڈھال تلوار وغیرہ ہتھیاروں سے مسلح تھے،ان کی نیت خراب تھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرات صحابہ تو عمرہ کے احرام میں تھے اور ان کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔ ۲؎ یعنی ان کی نیت یہ تھی کہ مسلمان غافل ہوں تو ہم ان پر ٹوٹ پڑیں سب کو شہید کردیں۔غرہ غین کے کسرہ سے بمعنی غفلت و فریب۔ ۳؎ سلم سین کے کسرہ یا فتحہ اور لام کے سکون سے بمعنی صلح،سلامی،اطاعت،سپرد کردینا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَلْقَوْا اِلَیۡکُمُ السَّلَمَ"اور فرماتاہے:"رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ"ایک اور ایک سے زیادہ پر بولا جاتا ہے،یہاں بمعنی سلامتی یا بمعنی اطاعت یعنی سارے کے سارے صحیح سلامت یا مطیع و فرمانبردار ہوکر گرفتار کرلیے گئے۔ ۴؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو انہیں قتل کیا نہ قیدی بلکہ اسی طرح چھوڑ دیا تاکہ ان پر اپنے ظلم حضور کی معافی کا اثر پڑے اگر یہ احسان نہ کیا جاتا تو کفار مکہ سے جنگ چھڑ جاتی۔ ۵؎ یعنی اﷲ تعالٰی کا ہی کرم تھا کہ اس نے ان اسّی کافروں کے دل میں تمہارا رعب ڈال دیا جس سے وہ تم سے لڑ نہ سکے بلکہ گرفتار ہوگئے اور تمہارے دل میں رحم و کرم ڈال دیا جس سے تم نے انہیں قتل یا قید نہ کیا بلکہ چھوڑ دیا جس کا نتیجہ آخر کار صلح ہوا۔اس جگہ کو بطن مکہ اس لیے فرمایا گیا کہ مکہ معظمہ سے حدیبیہ بہت ہی قریب ہے حتی کہ اس کا ایک حصہ حرم شریف میں ہی واقع ہے اس آیۃ کریمہ کی اور بہت تفسیریں کی گئی ہیں مگر قوی تفسیر یہ ہی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بلکہ صحابہ کرام کو بارگاہ الٰہی میں وہ قرب حاصل ہے کہ ان کے فعل کو رب تعالٰی اپنا فعل قرار دیتا ہے کہ یہاں اس آیت کریمہ میں رب نے فرمایا:"کَفَّ اَیۡدِیَہُمْ"۔