Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
856 - 1040
حدیث نمبر856
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ جب بنی قریظہ نے حضرت سعد ابن معاذ کے حکم پر اترنا چاہا ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا تو وہ گدھے پر سوار آئے ۲؎ جب قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے سردار کی طرف اٹھو چلو۳؎ چنانچہ وہ آئے بیٹھ گئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ تمہارے حکم پر اتر رہے ہیں۴؎ فرمایا کہ میں تو حکم دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کردیئے جائیں اور بچے قید کرلیے جائیں ۵؎ فرمایا تم نے ان کے متعلق فرشتے کا حکم دیا ۶؎  اور ایک روایت میں ہے اﷲ کا حکم دیا ۷؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ واقعہ شوال      ۵ھ؁   پانچ ہجری کا ہے کہ یہود مدینہ بنی قریظہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں سے بد عہدی کرکے مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا جس کی وجہ سے غزوہ احزاب یعنی خندق کا واقعہ پیش آیا،اﷲ تعالٰی نے ان سب کفار کی تمام تدبیروں کو ایک آندھی کے ذریعہ ختم فرمادیا۔مسلمانوں نے غزوہ خندق سے فارغ ہوکر بحکم خداوندی ان بدعہد یہودیوں بنی قریظہ کا محلہ گھیر لیا۔یہ لوگ پچیس دن اپنے قلعوں میں محصور رہ کر تنگ آگئے تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس پیغام بھیجا کہ ہم حضرت سعد ابن معاذ کے فیصلہ پر راضی ہیں وہ ہمارے متعلق جو فیصلہ کریں ہم کو منظور ہے۔حضور نے بھی ان کی یہ درخواست قبول فرمالی،چونکہ حضرت سعد ابن معاذ قبیلہ اوس کے سردار تھے اور بنی قریظہ اس کے حلیف تھے زمانہ جاہلیت میں اس لیے انہیں یقین تھا کہ حضرت سعد ہمارے حلیف ہونے کا لحاظ کرکے ہم پر نرمی کریں گے اس لیے وہ آپ کے فیصلہ پر راضی ہوئے مگر فیصلہ وہ ہوا جو آگے آرہا ہے۔

۲؎ آپ غزوہ خندق میں زخمی ہوگئے تھے بیمار تھے اس لیے سواری پر حاضر ہوئے،آپ کہیں دور سے نہ آئے تھے اپنے گھر سے ہی آئے تھے جو مدینہ منورہ میں تھا۔(مرقات)

۳؎ اس میں خطاب ان انصار سے ہے جو حاضر بارگاہ تھے یا سارے حاضرین سے یعنی اپنے ان سردار کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاؤ اور ان کے استقبال و پیشوائی کے لیے جاؤ،ابھی حضرت سعد کا خچر دور ہی تھا تب یہ حکم صادر ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی آمد پر ان کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا ان کا استقبال کرنا سنت ہے۔جن احادیث میں تعظیمی قیام سے منع فرمایا گیا ہے وہ وہ ہے کہ سردار بیٹھا ہو اور لوگ اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں یہ ہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔(مرقات و اشعہ)بعض نے کہا کہ یہ قیام تعظیمی نہ تھا بلکہ حضرت سعد بیمار تھے خود اتر کر نہ آسکتے تھےان کی مدد کے لیے یہ حکم دیا گیا اس لیے یہاں لام نہ فرمایا الیٰ ارشاد ہوا مگر یہ توجیہ کمزور ہے ورنہ صرف ایک دو آدمیوں کو انہیں اتارنے کے لیے بھیج دیا جاتا سب کو یہ حکم نہ ہوتا۔قوموا جمع ہے نیز پھر سیدکم نہ فرمایا جاتا بلکہ مریضکم ارشاد ہوتا۔سیدکم فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیام سرداری کی وجہ سے تھا نہ کہ بیماری کی وجہ سے،چونکہ قیام کے ساتھ استقبال کے لیے آگے بھیجنا بھی تھا اس لیے الیٰ ارشاد ہوا۔قیام تعظیمی کی پوری بحث ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں دیکھو اور ان شاءاﷲ اس کتاب میں باب القیام میں آوے گی۔

۴؎ یعنی تمہارے فیصلہ پر یہ بنی قریظہ راضی ہیں اور ہم کو بھی منظور ہے لہذا تم فیصلہ کرو۔معلوم ہوا کہ کسی کو پنچ مقررکرنا اس سے فیصلہ کرانا سنت سے ثابت ہے۔

۵؎ جنگجو سے مراد مطلقًا جوان مرد ہیں خواہ جنگ کرتے ہوں یا کراتے ہوں یا رائے دیتے ہوں اور ذریۃ سے مراد چھوٹے بچے عورتیں ہیں جنہیں جنگ سے کوئی تعلق نہ ہو۔(مرقات)خیال رہے کہ ان یہود مدینہ اور کفار و مشرکین میں یہ طے ہوا تھا کہ مشرکین تو باہر سے مدینہ کے مسلمانوں پر حملہ کریں اور ہم اندرون مدینہ مسلمانوں کو ماریں اور مسلمانوں کو ایسا کچل دیں جیسے چکی میں دانہ اس لیے ان کے جوانوں کو مقاتلہ فرمایا گیا۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ غزوہ احزاب میں باقاعدہ قتال ہوا ہی نہ تھا،مشرکین تو خندق دیکھ کر حیران رہ گئے یہود مدینہ ان کی رکاوٹ و حیرانی کی وجہ سے باقاعدہ جنگ نہ کرسکے۔

۶؎  فرشتہ سے مراد یا تو جبریل علیہ السلام ہیں یا وہ فرشتہ جو مؤمن کے دل میں بطور الہام اچھے خیالات پیدا کرتا ہے۔

۷؎ یعنی تم نے ایسا حکم دیا جس سے اﷲ رضی ہے یا اﷲ تعالٰی نے بذریعہ فرشتہ تمہارے دل میں یہ حکم ڈالا اور تم نے سنایا۔زبان تمہاری ہے فیصلہ رب کا ہے۔سبحان اﷲ! کیسی شان ہے حضرت سعد کی رضی اللہ عنہ۔اس سے معلوم ہوا کہ بڑے اہم فیصلوں میں بھی حکم(پنچ)بنانا جائز ہے اور پنچ کے فیصلہ پر فریقین کو راضی ہونا پڑے گا،پنچ کے فیصلہ کی اپیل نہیں۔سلطان بھی اپنا پنچ بناسکتا ہے۔(مرقات)
Flag Counter